حضرت عیسیٰ کی نبوت کا منکر ہے اور اُنؔ کے معجزات کا انکاری ہے جب یوحنا کی یہ عبارت پڑھے گا اور ایسے حوض کے وجود پر اطلاع پائے گا کہ جو حضرت تجھ سے ہی چاہتے ہیں یعنی خالصاً معبود ہمارا تو ہی ہے اور تیرے تک پہنچنے کے لئے کوئیؔ اَور دیوتا ہم اپنا ذریعہ قرار نہیں دیتے نہ کسی انسان کو نہ کسی بت کو نہ اپنی عقل اور علم کو کچھ حقیقت سمجھتے ہیں اور ہر بات میں تیری ذات قادر مطلق سے مدد چاہتے ہیں۔ آیت اپنے پُر زور بیان سے مستعد دلوں پر پورا پورا اثر ڈال رہی ہے اور اندرونی تاریکیوں کو دور کرنے کے لئے اعلیٰ درجہ کی روشنی دکھلا رہی ہے اسی جگہ سے دانا انسان سمجھ سکتا ہے کہ کس کتاب میں بلاغت اور خوش بیانی اور زور تقریر پایا جاتا ہے اور کون سی کتاب کلام بلیغ اور فصیح سے محروم ہے۔ نیک دل اور منصف انسان جب بہ نیتِ مقابلہ و موازنہ وید اور قرآن شریف کی عبارت پر نظر ڈالے گا۔ تو اسے فی الفور یہ دکھائی دے گا کہ وید اپنی عبارت میں ایسا کچا اور ناتمام ہے کہ پڑھنے والے کے دل میں طرح طرح کے شکوک پیدا کرتا ہے اور خدائے تعالیٰ کی نسبت انواع اقسام کی بدگمانیوں میں ڈالتا ہے اور کسی جگہ اپنے دعویٰ کو طاقت بیانی سے واضح کرکے نہیں دکھلاتا اور نہ پایۂ ثبوت تک پہنچاتا ہے بلکہ یہ خود معلوم ہیؔ نہیں ہوتا کہ اس کا دعویٰ کیا ہے اور اگر کچھ معلوم بھی ہوتا ہے تو بس یہی کہ وہ اگنی اور سورج اور اندر وغیرہ کی پرستش کرانا چاہتا ہے اور اس پر بھی کوئی حجت اور دلیل پیش نہیں کرتا کہ کب سے اور کیونکر ان چیزوں کو خدائی کا مرتبہ حاصل ہوگیا۔ اور پھر باوجود اس مہمل بیانی کے چاروں وید اس قدر لمبی اور طول طویل عبارت میں لکھے گئے ہیں جن کا مطالعہ شاید کوئی بڑا محنتی آدمی بشرطیکہ اس کی عمر بھی دراز ہو کرسکے۔ اور بمقابلہ اس کے جب منصف آدمی قرآن شریف کو دیکھے تو فی الفور اسے معلوم ہوگا کہ قرآن شریف میں ایجاز کلام اور قَلَّ وَ دَلَّ بیان میں جو لازمہ ضروریہ بلاغت ہے وہ کمال دکھلایا ہے کہ وہ باوجود احاطہ جمیع ضروریاتِ دین اور استیفا تمام دلائل و براہین کے اس قدر حجم میں قلیل المقدار ہے کہ انسان