جب اُسے پڑےؔ ہوئے دیکھا اور جانا کہ وہ بڑی مدت سے اس حالت میں ہے تو اُس سے کہا کہ کیا تو چاہتا ہے کہ چنگا ہوجائے بیمار نے اسے جواب دیا کہ اے
کامل طور پر مشتمل ہے اور ان دونوں قسموں کو کتابِ ممدوحؔ میں مفصل طور پر بیان فرما دیا ہے اور سعادتِ عظمیٰ اور شقاوتِ عظمیٰ کی حقیقت کو بخوبی کھول دیا ہے۔ مگر جیسا کہ ہم ابھی بیان کرچکے ہیں اِس صداقتِ قصویٰ اور نیز دوسری گزشتہ بالا صداقتوں سے برہمو سماج والے ناآشنا محض ہیں۔
اور غلبہ کاملہ ہے تمام قوتیں اسی کے لئے خاص ہیں اور مشرک لوگ ایسے نادان ہیں کہ جِنّات کو خدا کا شریک ٹھہرا رکھا ہے اور اس کے لئے بغیر کسی علم اورؔ اطلاع حقیقت حال کے بیٹے اور بیٹیاں تراش رکھی ہیں اور یہود کہتے ہیں کہ عُزیر خدا کا بیٹا ہے اور نصاریٰ مسیح کو خدا کا بیٹا بناتے ہیں یہ سب ان کے مونہہ کی باتیں ہیں جن کی صداقت پر کوئی ُ حجت قائم نہیں کرسکتے بلکہ صرف پہلے زمانہ کے مشرکوں کی رِیس کررہے ہیں ملعونوں نے سچائی کا راستہ کیسا چھوڑ دیا اپنے فقیہوں اور درویشوں اور مریم کے بیٹے کو خدا ٹھہرا لیا ہے حالانکہ حکم یہ تھا کہ فقط خدائے واحد کی پرستش کرو خدا اپنی ذات میں کامل ہے اس کو کچھ حاجت نہیں کہ بیٹا بناوے کون سی کسر اس کی ذات میں رہ گئی تھی جو بیٹے کے وجود سے پوری ہوگئی اور اگر کوئی کسر نہیں تھی تو پھر کیا بیٹا بنانے میں خدا ایک فضول حرکت کرتا جس کی اس کو کچھ ضرورت نہ تھی وہ تو ہریک عبث کام اور ہریک حالتِ ناتمام سے پاک ہے جب کسی بات کو کہتا ہے ہو تو ہوجاتی ہے۔ اہل اسلام جو ایمان لائے ہیں جنہوں نے توحید خالص اختیار کی اور یہود جنہوں نے اولیاء اور انبیاء کو اپنا قاضی الحاجات ٹھہرا دیا اور مخلوق چیزوں کو کارخانۂ خدائی میں شریک مقرر کیا اور صابئین جو ستاروں کی پرستش کرتے ہیں اور نصاریٰ جنہوں نے مسیح کو خدا کا بیٹا قرار دیا ہے اور مجوس جو آگ اور سورج کے پرستار ہیں اور باقی تمام مشرک جو طرح طرح کے شرک میں گرفتار ہیں خدا ان سب میں قیامت کے دن فیصلہ کردے گا خدا ہریک چیز پر شاہد ہے اور خود مخلوق پرستوں کا باطل پر ہونا کچھ