انیؔ ہلنے کے بعد جو کوئی کہ پہلے اس میں اترتا کیسی ہی بیماری میں کیوں نہ ہو اس سے چنگا ہوجاتا تھا اور وہاں ایک شخص تھا کہ جو اٹھتیس برس سے بیمار تھے یسوع نے سے حصہ نہ پہنچا ہو یہؔ وہی مکافات عظیمہ کا انتہائی مرتبہ ہے جس کو فرقان مجید نے دوسرے لفظوں میں بہشت اور دوزخ کے نام سے تعبیر کیا ہے اور اپنی کامل اور روشن کتاب میں بتلا دیا ہے کہ وہ بہشت اور دوزخ روحانی اور جسمانی دونوں قسم کے مکافات پر اپنےؔ کاموں کا بدلہ پائیں گے۔ تم اے مشرکو بجز خدا کے صرف بے جان ُ بتوں کی پرستش کرتے ہو اور سراسر جھوٹ پر جم رہے ہو۔ سو اس پلیدی سے جو بُت ہیں پرہیز کرو اور دروغ گوئی سے باز آؤ۔ کیا ان کے پاؤں ہیں جن سے وہ چلتے ہیں کیا ان کے ہاتھ ہیں جن سے وہ پکڑتے ہیں کیا ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے ہیں کیا ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے ہیں اور تم سورج اور چاند کو بھی مت سجدہ کرو اور اس خدا کو سجدہ کرو جس نے ان سب چیزوں کو پیدا کیا ہے۔ اگر حقیقی طور پر خدا کے پرستار ہو تو اسی خالق کی پرستش کرو نہ مخلوق کی۔ سورج کو یہ طاقت نہیں کہ چاند کی جگہ پہنچ جائے اور نہ رات دن پر سبقت کرسکتی ہے کوئی ستارہ اپنے فلک مقرری سے آگے پیچھے نہیں ہوسکتا۔ زمین آسمان میں کوئی بھی ایسی چیز نہیں جو مخلوق اور بندۂ خدا ہونے سے باہر ہو اور اگر کوئی کہے کہ میں بھی بمقابلہ خدائے تعالیٰ ایک خدا ہوں تو ایسے شخص کو ہم واصل جہنم کریں اور ظالموں کو ہم یہی سزا دیا کرتے ہیں۔ سو تم خدا اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لاؤ اور یہ مت کہو کہ تین ہیں باز آجاؤ یہی تمہارے لئے بہتر ہے۔ اے لوگو ایک مثال ہے تم غور کرکے سنو جن چیزوں سے تم مرادیں مانگتے ہو وہ چیزیں تو ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتیں اور اگر مکھی ان سے کچھ چھین لے تو اس سے چھوڑا نہیں سکتیں۔ طالب بھی ضعیف ہیں اور مطلوب بھی ضعیف یعنی مخلوق چیزوں سے مرادیں مانگنے والے ضعیف العقل ہیں اور مخلوق چیزیں جو معبود ٹھہرائی گئیں وہ ضعیف القدرت ہیں۔ مشرک لوگوں نے جیسا چاہئے تھا خدا کو شناخت نہیں کیا وہ ایسا سمجھتے ہیں کہ گویا خدا کا کارخانہ بغیر دوسرے شرکاء کے چل نہیں سکتا حالانکہ خدا اپنی ذات میں صاحب قوّتِ تامہ