اور پژمردوں کی ایک بڑی بھیڑ پڑی تھی جو پانی کے ہلنے کی منتظر تھی کیونکہ ایک فرشتہ بعض وقت اس حوض میں اتر کر پانی کو ہلاتا تھا اور
پانے کے لئے یہی ایک طریق ہے کہ خدائے تعالیٰ توجہ خاص فرما کر امر مکافات کو کامل طور پر نازل کرے اور کامل طور پر نازل ہونے کے یہی معنے ہیں کہ وہ مکافات تمام ظاہر و باطن پر مستولی ہوجائے اور کوئی ایسی ظاہری یا باطنی قوت باقی نہ رہے جس کو اس مکافات
خدا ہی قادر ہے کوئی دوسرا نہیں۔ اسی کا تمام بندوں پر تسلّط اور تصرّف ہے اور وہی صاحبِ حکمتِ کاملہ اور ہریک چیز کی حقیقت سے آگاہ ہے تمام حاجتوں کو اس سے مانگنا چاہئے۔ اور جو لوگ بجز اس کے اور اور چیزوں سے اپنی حاجت مانگتے ہیں وہ چیزیں ان کی دعاؤں کا کچھ جواب نہیں دیتیں۔ ایسے لوگوں کی یہ مثال ہے جیسے کوئی پانی کی طرف دونوں ہاتھ پھیلا کر کہے کہ اے پانی میرے مونہہ میں آجا۔ سو ظاہر ہے کہ پانی میں یہ طاقت نہیں کہ کسی کی آواز سنے اور خودبخود اس کے مونہہ میں پہنچ جائے۔ اسی طرح مشرک لوگ بھی اپنے معبودوں سے عبث طور پر مدد طلب کرتے ہیں جس پر کوئی فائدہ مترتب نہیں ہوسکتا۔ گو کوئی مقرب الٰہی ہو مگر کسی کی مجال نہیں کہ خواہ نخواہ سفارش کرکے کسی مجرم کو رہا کرادے۔ خدا کا علم ان کے پیش وپس پر محیط ہورہا ہے۔ اور ان کو خدا کے علوم سے صرف اسی قدر اطلاع ہوتی ہے جن باتوں پر وہ آپ مطلع کرے اس سے زیادہ نہیں اور وہ خدائے تعالیٰ سے ڈرتے رہتے ہیں اور خدا کے تمام کامل نام اسی سے مخصوص ہیں اور ان میں شرکت غیر کی جائز نہیں۔ سو خدا کو انہیں ناموں سے پکارو جو بلاشرکت غیرے ہیں یعنی نہ مخلوقات ارضی و سماوی کے نام خدا کے لئے وضع کرو۔ اور نہ خدا کے نام مخلوق چیزوں پر اطلاق کرو۔ اور ان لوگوں سے جدا رہو جو کہ خدا کے ناموں میں شرکت غیر جائز رکھتے ہیں عنقریب وہ