بکلّی آزاد رکھنا چاہتا تو پھر یہ بھی مناسب نہ تھا کہ اپنی آخری کتاب کو تمام لوگوں کے لئے(جو مختلف زبانیں رکھتے ہیں) ایک ہی زبان میں جس سے وہ ؔ ناآشنا ہیں بھیجتا۔ کیونکہ غیر زبان کا دریافت کرنا بھی بغیر محنت کے گو تھوڑی ہی ہو ہوجائے اور نیز اعلیٰ درجہ کا یقین مالک حقیقی کے وجود کی نسبت اسی بات پر موقوف ہے کہ وہ مالک حقیقی اسبابِ معتادہ کو بکلی نیست ونابود کرکے عریاں طور پر جلوہ گر ہو۔ اس لئے یہ صداقت قصویٰ جس سے مطلب انتہائی معرفت اور انتہائی مکافات ہے تب ہی متحقق ہوگی کہ جب وہ تمام باتیں مذکورہ بالا متحقق ہوجائیں کہ جو عندالعقل اس کی تعریف میں داخل ہیں کیونکہ انتہائی معرفت بجز اس کے عندالعقل ممکن نہیں کہ مالک حقیقی کا جمال بطورؔ حق الیقین مشہود ہو یعنی ظہور اور بروز تام ہو جس پر آریا سماج والوں کے دلوں کو بھار ہی ہیں اور کیوں وہ ایسے کچے اور پست خیالات پر فریفتہ ہورہے ہیں۔ اگر وید کا کلام باوجود اس فضول طوالت اور مہمل بیانی اور خبط مضمون کے پھر بھی فصیح اور بلیغ ہی ہے تو پھر غیر فصیح کلام دنیا میں کس کو کہنا چاہئے۔ اور اگر آریا سماج والوں کو یہ معلوم نہیں کہ کلام فصیح کسے کہتے ہیں تو لازم ہے کہ وہ ذرا آنکھ کھول کر بمقابلہ طول طویل وید کے کلام کے جو اوپر تحریر ہوچکا ہے قرآن شریف کی چند آیات پر نظر ڈالیں کہ کس لطافت و ایجاز سے مسائل کثیرہ وحدانیت کو قل و دل عبارت میں بیان کرتا ہے اور کس جہدو کوشش سے مسئلہ توحید کو دل میں بٹھاتا ہے اور کیسی فصیح اور مدلّل تقریر سے توحید الٰہی کو قلوب صافیہ میں منقش ؔ کرتا ہے۔ اگر اس کی مانند وید مذکور میں شرتیاں موجود ہوں تو پیش کرنی چاہئیں ورنہ بیہودہ بک بک کرنا اور لاجواب رہ کر پھر خبث اور شر سے باز نہ آنا ان لوگوں کا کام ہے جن لوگوں کو خدا اور ایمانداری سی کچھ بھی غرض نہیں اور نہ حیا اور شرم سے کچھ سروکار ہے۔ اب یہاں ہم بطور نمونہ بمقابلہ وید کی شرتیوں کے کسی قدر آیات قرآن شریف جو وحدانیتِ الٰہی کو بیان کرتے ہیں لکھتے ہیں تاہریک کو معلوم ہوجائے کہ وید اور قرآن شریف میں سے کس کی عبارت میں لطافت اور ایجاز اور