کو بیکار چھوڑ دے تو وہ بھی گھٹتے گھٹتے کالعدم ہوجائے گی۔ سو یہ اس کا فضل و کرم ہے کہ اس نے بندؔ وں کو اس طریقہ پر چلانا چاہا جس پر ان کی قوت نظریہ کا کمال موقوف ہے۔ اور اگر خدائے تعالیٰ محنت کرنے سے وسیع عالم میں ظہور پذیر ہوجائے اور تا ان تجلیاتِ تامہ اور کاملہ سے انسان اُس اعلیٰ درجہ کے شہودِ تام تک بھی پہنچ جائے کہ جو اس کی بشری طاقتوں کے لئے حدِ امکان میں داخل ہے اور چونکہ اعلیٰ درجہ کی مکافات عند العقل اسی میں منحصر ہے کہ جو امر بطور جزا وارد ہے وہ انسان کے ظاہرؔ و باطن و جسم و جان پر بتمام و کمال دائمی و لازمی طور پر محیط اور کبھی اس مقدس کتاب کا درشن نہیں کیا وہ دل میں یہ وسوسہ کریں کہ یہ شرتیاں جو رگوید میں سے لکھی گئی ہیں وہ صحیح طور پر نہیں لکھی گئیں یا شاید ان سے بہتر وید مذکور میں اور شرتیاں ہوں گی جن میں وید نے وحدانیت الٰہی کے بیان کرنے میں داد فصاحت دی ہوگی یا مخلوق پرستی کو فصیح اور مدلّل تقریر میں جو لازمہ فصاحت و بلاغت ہے عطا کیا ہوگا سو ایسے وسواسی آدمیوں کے جواب میں عرض کیا جاتا ہے کہ ہم نے یہ تمام شرتیاں رگوید سنتھا استک اول سکت سے ۱۱۵ؔ سکت تک بطور نمونہ منتخب کرکے لکھی ہیں۔ اگر کسی کو یہ دعویٰ ہو کہ وہ شرتیاں صحیح نہیں ہیں تو اس پر لازم ہے کہ جو اس کی دانست میں صحیح ترجمہ ہو وہ پیش کرے تا منصف لوگ آپ دیکھ لیں کہ یہ شرتیاں صحیح ہیں یا اُس کی پیش کردہ صحیح ہیں۔ اور اگر کسی کو یہ دعویٰ ہو کہ اگرچہ یہ شرتیاں مہمل اور بے سروپا ہیں۔ مگر اسی رگوید میں ایسی شرتیاں بھی پائی جاتی ہیں جن میں وحدانیت الٰہی کا بیان نہایت صفائی اور شائستگی سے موجود ہے تو ایسے شخصپر لازم ہے کہ ہمراہ ان شرتیوں کے ان شرتیوں کو بھی پیش کرے تاکہ اگر کسی طرح ہاتھ پاؤں مار کر وید کی بلاغت و خوش بیانی ثابت ہوسکے تو ثابت ہوجائے ہم کو کسی صاحب سے ناحق کی ضد نہیں ہے ۔ہم اپنے سچے دل سے کہتے ہیں کہ ہم نے بڑی غور اور تدبّر سے وید پر نظر کرکے اس کو طریقہ شائستہ بیانی سے بالکل دور اور مہجور پایا ہے۔ اور ہم بڑے افسوس سے لکھتے ہیں کہ ایسی پراگندہ باتیں کیونکر