اگر کان بند رکھے تو بہرہ ہوجائے گا۔ اور اگرؔ ہاتھ پاؤں حرکت سے بند رکھے تو آخر یہ نتیجہ ہوگا کہ ان میں نہ حس باقی رہے گی اور نہ حرکت۔ اسی طرح اگر قوت حافظہ سے کبھی کام نہ لے تو حافظہ میں فتور پڑے گا۔ اور اگر قوتِ متفکرہ مالک حقیقی نے اپنے لطف کامل اور قہر عظیم کے دکھلانے کی غرض سے یعنی جمالی و جلالی صفتوؔ ں کی پوری پوری تجلی ظاہر کرنے کے قصد سے ایک اَور عالم جو ابدی اور لازوال ہے مقرر کررکھا ہے تا خدائے تعالیٰ میں جو صفتِ مجازات ہے جس کا کامل طور پر اس منقبض اور فانی عالم میں ظہور نہیں ہوسکتا وہ اس ابدی اور شرتیوں میں اپنا منشا ظاہر کرنے میں کون سی بلاغت دکھلائی ہے۔ اور آپ ہی بولیں کہ کیا اس کی تقریر فصیح تقریروں کی طرح پُرزور اور مدلّل ہے یا پوچ اور لچر ہے۔ منصفین پرؔ پوشیدہ نہیں کہ ان شرتیوں میں بجائے اس کے کہ حق الامر کو اپنی خوش بیانی کے ذریعہ سے ظاہر کیا جاتا اور راستی کے پھیلانے کے لئے کوشش کی جاتی۔ خود مضمون شرتیوں کا ایسا بے سروپا اور مہمل ہے جس سے سامع اس کا ایک دبدہا میں پڑ جاتا ہے۔ کبھی ایک چیز کو خالق ٹھہراتا ہے اور اس سے مرادیں مانگتا ہے۔ کبھی اسی کو مخلوق بناتا ہے اور دوسرے کی محتاج قرار دیتا ہے۔ کبھی کسی کے لئے خدا کی صفتیں قائم کرتا ہے۔ اور پھر اسی کی طرف فانی چیزوں کی صفتیں منسوب کرتا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ جس نے اس قدر کلام کو طول دیا۔ اور پھر ماحصل اس کا خاک بھی نہیں۔ نہ توحید کا مدعی ہوکر توحید کو بیان کیا ہے۔ نہ مخلوق پرستی کا مدعی ہوکر مخلوق پرستی کو بہ پایۂ ثبوت پہنچایا ہے۔ بلکہ سراسیمہ اور مخبط الحواس آدمی کی طرح ایسی تقریر بے بنیاد اور متناقض کی ہے کہ جس سے ہندو مذہب میں عجب طرح کی گڑبڑ پڑگئی ہے۔ اور کوئی کسی دیوتا کا پوجاری اور کوئی کسی دیوتا کا بھجن گارہا ہے۔ کیا ایسی تقریر سراپا فضول و مہمل اس لائق ہوسکتی ہے کہ کوئی دانا اس کو بلیغ و فصیح کہے۔ شاید بعض ہندو صاحب جنہوں نے فقط وید کا نام سن رکھا ہے