تمامؔ قویٰ انسانیہ کا قیام اور بقا محنت اور ورزش پر ہی موقوف ہے۔ اگر انسان ہمیشہ آنکھ بند رکھے اور کبھی اس سے دیکھنے کا کام نہ لے(تو جیسا کہ تجارب طِبّیہ سے ثابت ہوگیا ہے) تھوڑے ہی دنوں کے بعد اندھا ہوجائے گا اور اپنی اُس شقاوت عظمیٰ کو کہ جو تمام شقاوتوں کی آخری حد ہے پہنچ جائے اور تا ہریک فریق اس اعلیٰ درجہ کے مکافات کو پالے جو اس کے لئے ممکن ہے یعنی اس کامل اور دائمی مکافات کو پالے کہ جو اس عالم بے بقا اور زوال پذیر میں جس کا تمام رنج و راحت موت کے ساتھ ختم ہوجاتا ہے بمنصۂ ظہور نہیں آسکتی بلکہ اس کے کامل ظہور کے لئے ی اُس کی پرستش کرتے ہیں۔ سورج کی تیز رفتار ہمایون فال ہاتھ پاؤں کے مضبوط راستہ طے کرنے والے گھوڑے جن کی ہم نے پرستش کی ہے اور جو تعریف کئے جانے کے مستحق ہیں آسمان کی چوٹی پر پہنچ گئے ہیں اور جلد زمین اور آسمان کے گرد پھر آئے ہیں۔ ایسا دیوتا پن اور جلال سورج کا ہے کہ جب وہ غروب ہوجاتا ہے وہ پھیلی ہوئی روشنی کو جو ادھورے کام پر پھیلی ہوئی تھی اپنے میں چھپا لیتا ہے۔ جب وہ اپنے گھوڑوں کو کھول دیتا ہے۔ اس وقت رات کی تاریکی سب پر چھا جاتی ہے۔ آفتاب مترا دیوتا اور ورن دیوتا کے سامنے اپنی روشن صورت آسمان کے درمیان ظاہر کرتا ہے اور اس کی کرنیں ایک تو اس کی بے حد روشن طاقت کو پھیلاتی ہیں اور دوسری جب وہ چلی جاتی ہیں تب رات کی تاریکی لاتی ہیں۔ آج دیوتاؤ سورج کے نکلتے ہی ہمیں نالائق باتوں سے بچاؤ۔ اور ایسا ہو کہ مترا دیوتا ورن دیوتا ادوتی دیوی سمندر دیوتا دھرتی دیوی اکاس دیوتا اس ہماری دعا کو متوجہ ہوکر سنیں۔ اب ناظرین اس کتاب کے خود خیال فرماویں کہ اس قدر شرتیوں سے جن کا ایک ذخیرہ کلاں یہاں لکھ کر کئی صفحے ہم نے سیاہ کئے ہیں کیا کچھ خدا کا بھی پتہ مل سکتا ہے۔ اور حضرات آریا سماج والے انصافاًہم کو بتلاویں کہ رگوید نے ان