اُس دوسرے جہان میں بھی اندھا ہی ہوگا بلکہ اندھوں سے بدترؔ ہوگا۔ اور پھر یہ دعا سکھاتا ہے یعنے اے باری تعالیٰ ہم پر وہ صراط مستقیم ظاہر کر جو تو نے نہیں پکڑتا اور ان سچے طالبوں کو گڑھے میں گرنے دیتا ہے اورؔ خود لطف فرما کر چند قدم آگے نہیں آتا اور اپنے جلو ۂخاص سے مشکلات کے لمبے قصہ کو کوتاہ نہیں کرتا۔ سبحانہ و تعالی عما یصفون۔ اسی طرح برہمو سماج والے خدائے تعالیٰ کے مالک یوم الدین ہونے سے بھی بے خبر ہیں۔ کیونکہ یوم الجزاء کے مالک ہونے کی حقیقت یہ ہے کہ حاصلؔ ہوسکتی ہے تو طرح طرح کی خوراکوں کی مالک ہے ہمیں خوش کر کیونکہ تو بزرگ ہے۔ اے اگنی ہماری حفاظت کے لئے سورج دیوتا کی مانند ہو۔ سیدھی کھڑی ہوجا۔ تو خوراک کی دینے والی ہے جس کے کارن ہم تجھے مرہم چھڑا کر بلاتے ہیں اور پروہت تجھے نذریں چڑھاتے ہیں۔ اے جوان اور چمکدار اگنی ہمیں ناپاک روحوں سے اور کینہ ور آدمی سے جو بخشش نہیں کرتا اور موذی جانوروں سے اور ان لوگوں سے جو ہمارے مارنے کی فکر میں ہیں بچا۔ اے اگنی تجھے منونے انسان کی بہت سی نسلوں پر روشنی کرنے کے لئے روکا تھا ُ تو جو یُگ کے لئے پیدا ہوئی ہے اور چڑھاوے سے سیر ہوتی ہے تو جس کو سب آدمی نمشکار کرتے ہیں روشن ہوگئی ہے۔ اگنی کے شعلے روشن طاقتور اور خوفناک ہیں ان کا اعتماد نہ کرنا چاہیئے وہ طاقتور ناپاک روحوں کو اور دیگر ہمارے مخالفوں کو ہمیشہ ضرور بالکل جلا دیتے ہیں۔ اے اگنی جو امیر ہے اور جو کہ تمام مخلوقات کی فریاد رسی کرنے والی ہے صبح سے نذریں دینے والے کے پاس بہت قسم کی دولت معہ عمدہ گھر کے لا۔ آج یہاں دیوتاؤں کو اٹھتے ہی لا۔ آج ہم اگنی کو جو پیغمبر مکانوں کے دینے والی ہردلعزیز دھوئیں کے جھنڈے والی روشنی بخشنے والی اور علی الصباح جو پوجاری پوجا کرتا ہے اس کی حفاظت کرنے والی ہے منتخب کرتے ہیں۔ میں اگنی کے جو سب دیوتاؤں سے بہتر اور کم عمر کا دیوتا ہے انسان کا مہمان ہے جس کو سب بلاتے ہیں اور جو چڑھاوا چڑھانے والے کا رفیق ہے سب مخلوقات کو جانتا ہے۔ پرات کال مہما