دعاؔ کر کہ خدایا مجھے مراتب علمیہ میں ترقی بخش۔ اور پھر فرماتا ہے۔ 33۔ الجزو نمبر ۱۵۔ ۱؂ یعنی جو شخص اس جہان میں اندھا رہا اور علم الٰہی میں بصیرت پیدا نہ کی وہ بے رحم اور بخیل ہے یا ایسا ہی کمزور اور ناتوان ہے کہ ڈھونڈنے والوں کو سراسیمہ اور حیران چھوڑتا ہے اور کھٹکانے والوں پر اپنا دروازہ بند رکھتا ہے اور جو صدق سے اس کی طرف دوڑتے ہیں ان کی کمزوری پر رحم نہیں کرتا اور ان کا ہاتھ واسطے جو دیوتاؤں کے پرستار ہیں مناتے ہیں۔ آدمی اس اگنی کی طرف رجوع لاتے ہیں جو بل کے زیادہ کرنے والی ہے۔ ہم اے اگنی نذریں چڑھا کر تیری پوجا کرتے ہیں۔ اے بہت خوراک دینے والے ہم پر آج مہربان ہو۔ اے اگنی تو خوشی کی دینے والی دیوتاؤں کے بلانے والی اور ان کے پیغمبر اور انسان کی محافظ ہے وہ نیک اور دیرپا کام جو دیوتا کرتے ہیں سب تیرے میں جمع ہیں۔ اے نوجوان اور نیک فال اگنی جو کچھ کہ ہم تجھ کو پیش کریں تو ہم پر مہربان ہوکر یا تو اب یا کسی اور وقت طاقتور دیوتاؤں کے پاس لے جا۔ اے اگنی اس طور پر تیرا پوجاری تیری پوجا کرتا ہے اور تو اپنی روشنی سے آپ روشن ہے۔ آدمی بمدد سات کاروبار کرنے والے پروہتوں کی ہوم کرکر اس اگنی کو جو ان کے دشمنوں پر فتح یاب ہے روشن کرتے ہیں۔ اے اگنی جو کہ فنا کرنے والی ہے تو نے اور دوسرے دیوتاؤں نے مل کر ورترا کو قتل کیا ہے۔ دیوتاؤں نے دھرتی اور سرگ اور اکاس کو مخلوقات کے واسطے فراخ رہنے کی جگہ بنایا ہے ایسا ہو کہ دولت والا اگنی بروقت ضرورت کے کانوا پر اس طرح مہربان ہو جیسا کہ لڑائی میں گھوڑا مویشی کے واسطے ہنہناتا ہے۔ اس اگنی کی کرنیں جس کو کانوا نے سورج سے زیادہ روشن کردیا ہے سرفرازی سے چمکتے ہیں ہم اس کی تعریفیں کرتے ہیں۔ ہم اس کو بلند کرتے ہیں۔ اے اگنی خوراک کے بخشنے والی ہماری خزانے پُر کردے کیونکہ دیوتاؤں کی دوستی تیرے ذریعہ سے