اُن تمام اہل کمال لوگوں پر ظاہر کیا جن پر تیرا فضل اور کرم تھا چونکہ اہل کمال لوگوں کا صراط مستقیم یہیؔ ہے کہ وہ علیٰ وجہ البصیرت حقائق کو معلوم کرتے ہیں نہ اندھوں کی طرح۔ پس اس دعا کا ماحصل تو یہی ہوا کہ خداوندا وہ تمام
خدائے تعالیٰ کی ملکیت تامہ کہ جو تجلیات عظمیٰ پر موقوف ہے ظہورؔ میں آکر پھر اس ملکیتِ تامہ کی شان کے موافق پوری پوری جزا بندوں کو دی جائے۔ یعنی اول اُس مالکِ حقیقی کی ملکیّتِ تامہ کا ثبوت ایسے کامل الظہور مرتبہ پر ہوجائے کہ
کرتا ہوں تاکہ وہ اور دیوتاؤں کو لینے جائے۔ اے یُگ کرنے والی اورُ سرب گیانی اگنی سب آدمی تجھے روشن کرتے ہیں بہت لوگ بلاتے ہیں عاقل دیوتاؤں کو جلدی سے یہاں لا۔ تو اےؔ اگنی انسانوں کے یگوں کی حفاظت کرنے والی ہے اور دیوتاؤں کی پیغمبر ہے۔ آج یہاں دیوتاؤں کو جو صبح اٹھتے ہیں اور سورج کا دھیان کرتے ہیں لا۔ اے اسونوں دیوتاؤ تم صبح کے یُگ کے واسطے جاگو۔ ایسا ہو کہ وہ دونوں دیوتا سوم کارس پینے کے لئے یہاں آویں۔ ہم دونوں اسونوں کو جو دونوں دیوتا ہیں اور نہایت اچھے رتھ بان ہیں اور ایک عمدہ گاڑی میں سوار ہوتے ہیں اور سرگ تک پہنچتے ہیں بلاتے ہیں۔ اے اسونوں دیوتا ؤ اپنی چابک سے جو کہ تمہارے گھوڑوں کی جھاگوں سے ترَہے اور اس کی پٹخار سے بڑی آواز ہوتی ہے سوم کے ارگ کو ہلادو۔ اے اسونوں دیوتاؤ ارگ چرچنی والے کے رہنے کی جگہ جہاں تم اپنی رَتھ میں سوار ہوکر جاتے ہو تم سے دور نہیں ہے۔ میں سونے کے ہاتھ والے سورج کو اپنی حفاظت کے لئے بلاتا ہوں وہ پوجاریوں کا درجہ مقرر کرتا ہے سورج کی جو پانی کا مددگار نہیں ہے ہماری حفاظت کے لئے تعریف کرو۔ ہم اس کی پوجا کرنے کے لئے آرزو رکھتے ہیں۔ دوستو بیٹھ جاؤ۔ درحقیقت ہم سورج کی تعریف کریں گے کیونکہ وہ درحقیقت دولت کا بخشنے والا ہے۔ عاقل ہمیشہ سورج کے اس بڑے درجہ کا دھیان کرتے ہیں جب سے آنکھ آسمان کی سیر کرتی ہے۔ دانا آدمی جو کہ ہوشیار رہتے ہیں اور تعریف کرنے میں بڑے سرگرم