جن کا خودبخود معلوم کرلینا تمہارے لئے ممکن نہ تھا۔ اور پھر فرمایا ہے۔
عنے خدا سے وہی لوگ ڈرتے ہیں جو اہل علم ہیں۔ اور پھر فرماتا ہے
دلبرانہ تجلیات سے دردمندوں کا کچھ علاج نہیں کرتا۔ بلکہ اُن کو اُنہیں کے خیالات میں آوارہ چھوڑتا ہے۔ اور اس سے زیادہ اُن کو کچھ بھی معرفت عطا نہیں کرتا کہ صرف اپنی اٹکلیں دوڑایا کریں اور اُنہیں اٹکلوں میں ہی ساری عمر کھو کر اپنی ظلمانی حالت میں ہی مرجائیں۔ مگر کیا یہ سچ ہے کہ خداوند کریم ایسا ہی سخت ؔ دل ہے یا ایسا ہی
تاکہ اس کو معلوم ہو کہ میری پوجا قبول ہوئی۔ تیرے بل سے اکاش اور دھرتی لرزاں ہے۔ تو نے اس بوجھ کو اٹھایا ہے جس کے لئے پروہت مقرر کیا گیا تھا۔ تو نے بزرگ دیوتاؤں کی پرستش کی ہے۔ تو اے اگنی خواہشوں کی پورا کرنے والی ہے۔ اپنے پوجاریوں کی دولت کی زیادہ کرنے والی ہے۔ اے اگنی دولت کی خاطر ہم تیری پوجا کرتے ہیں۔ اس ہوم کے کرنے والے کا نام کردے۔ ایسا ہو کہ تیری کرپا سے جو ہماری اولاد ہو تو پھر ہم یہ رسم ادا کریں۔ دھرتی اکاش اور تمام دیوتاؤں سمیت ہمیں بچا۔ اے اگنی اس ہماری غلطی کو اور اس طریق کو جس میں ہم گمراہ ہوگئے معاف کر تیری تعریف کرنی چاہئے۔ کیونکہ تو ان لوگوں کی جو تجھ کو تیرے لائق ارگ دیتے ہیں حفاظت کرنے والی ہے۔ اے پاک اگنی جو بھوگ لینے ہر طرف جاتی ہے یگ کے کمرہ میں جو تیرے روبرو ہے جا جیسے پہلے زمانہ میں منش انگرار اور تیاتی یعنی راجگان سلف جاتے تھے اور دیوتاؤں کو یہاں لا۔ اور انہیں پاک کشا پر بٹھا اور ان میں ایسا بلدان پیش کر جس سے وہ مشکور ہوں۔ اےؔ اگنی تو ہماری اس منتر سے جو ہم اپنی لیاقت اور آگاہی کے موافق پڑھتے ہیں ترقی پا اور ہمیں دولتمند کر اور ہمیں نیک سمجھ دے اور بہت خوراک دے۔ ہم منتر پڑھ کر طاقتور اگنی کو جس کی اور رشی بھی تعریف کرتے ہیں۔ بہت آدمیوں کے فائدہ کے