سے نہیں نکال سکتی بلکہ ارسطو اور افلاطون کی کتابیں نکال سکتی ہیں۔ تو پھر کیا خدا کا یہ فرمانا کہ ساری تاریکیوں سے میری کتاب ہی نجات دیتی ہے نرا دعویٰ ہی ہوا۔ جب ایک باتؔ کی سچائی تجربہ اور قیاس سے بالکل کھل جائے تو اس کے سامنے
چھوٹا سا دائرہ ہیں اور پھر اس دائرہ کا بھی پورا پورا ہمیں علم حاصل نہیں۔ پس اس صورت میں ہماری نہایت ہی کم ظرفی اور سفاہت ہے کہ ہم اس اقل قلیل پیمانہ سے خدائے تعالیٰ کی غیر محدودؔ حکمتوں اور قدرتوں کو ناپنے لگیں غرض خدائے تعالیٰ کی ربوبیّت تامہ اور
ہے یعنی اپنے جسم کا آپ جلانے والا ہے آج ہماری خوش ذائقہ قربانی دیوتاؤں کو ان کے کھانے کے لئے پیش کر۔ اگنی دیوتا جو کہ ہمیشہ جوان رہتا ہے بڑا عاقل ہے۔ اور یگ کرنے والے کے گھر کا محافظ ہے اور نذروں کا لے جانے والا ہے جس کا مونہہ دیوتاؤں تک نذریں پہنچانے کا وسیلہ ہے اور گھر کی آگ سے روشن ہوا ہے۔ لازوال اگنی اپنی خوراک کو اپنی لاٹ سے ملا کر اور اس کو جلدی سے تناول کرکے خشک لکڑی پر چڑھ گئی ہے جلانے والے عنصر کا شعلہ چالاک گھوڑے کی مانند پھلتا ہے اور بادل کی مانند بلند ہوکر گرجتا ہے۔ اے اگنی یگ جس کو کوئی نہیں روک سکتا اور جس کی تو ہر طرف سے رکشا کرنے والا ہے دیوتاؤں کو پہنچتا ہے۔ اے اگنی جس قدر تیرے سے ہوسکے اپنی نذر دینے والے کو فائدہ پہنچا۔ وہ یقیناً تیرے ہی پاس اے اینگرا واپس آوے گا۔ اگنی کے وسیلہ سے پوجاری کو ایسی آسودگی حاصل ہوتی ہے جو روزبروز بڑھتی جاتی ہے اور جو شہرت کا چشمہ اور انسان کی نسل بڑھانے والی ہے۔ اے اندر اے وایو یہ ارگ تمہارے واسطے چھڑکا گیا ہے ہمارے واسطے کھانا لے کر ادھر آؤ۔ اے اندر جس کی استت سب کرتے ہیں ایسا ہو کہ پھیلنے والے سوم کارس تیرے میں سرایت کرے اور تجھے فہم برتر حاصل کرنے کے لئے موافق ہو۔ جو کچھ عمدہ تعریفیں اور دیوتاؤں کی ہوسکتی ہیں۔ ان سب کا اندر بھی مستحق ہے۔ جو لوگ اندر کا دھیان کرتے ہیں خواہ لڑائی میں یا حصول اولاد کے لئے اور عاقل جو فہم کے طالب