کہ وہ اپنی کتاب نازل کرکے انسان کو کسی کمال تک پہنچانا نہیں چاہتا بلکہ کمال سے روکتا ہے۔ کیا یہ بات سچ نہیں ہے کہ خدا نے اپنے کلامؔ کو اس لئے بھیجا ہے کہ تا انسانوں کو ظلمات سے نور کی طرف نکالے۔ پس اگر خدا کی کتاب ظلمتوں مان چکے تو ہم پر یہ بھی فرض ہے کہ ہم اِس بات کو بھی مان لیں کہ اس کی تمام حکمتوں اور قدرتوں پر ہم کو علم حاصل ہونا ممتنع اور محال ہے۔ سو ہم اس کی ناپیدا کنار حکمتوں اور قدرتوں کے ؔ لئے کوئی قانون نہیں بناسکتے۔ اور جس چیز کی حدود ہمیں معلوم ہی نہیں اُس کی پیمائش کرنے سے ہم عاجز ہیں۔ ہم بنی آدم کی دنیا کا نہایت ہی تنگ اور کسی قدر شرتیاں بطور نمونہ بیان کرنا قرین مصلحت ہے۔ سو ہم رگوید میں سے کئی ایک شرتیاں جن کی نسبت آریوں کا خیال ہے کہ توحید کی تعلیم دیتے ہیں ذیل میں لکھتے ہیں اور وہ یہ ہیں۔ میں اگنی دیوتا کی جو ہوم کا بڑاکرد کارکن اور دیوتاؤں کو نذریں پہنچانے والا اور بڑا ثروت والا ہے مہما کرتا ہے۔ ایسا ہو کہ اگنی جس کا مہما زمانہ قدیم اور زمانہ حال کے رشی کرتے چلے آئے ہیں دیوتاؤں کو اس طرف متوجہ کرے۔ اے اگنی جو کہ دو لکڑیوں کے باہم رگڑنے سے پیدا ہوئی ہے اس پاک کٹے ہوئے کشاپر دیوتاؤں کو لا۔ تو ہماری جانب سے ان کا بلانے والا ہے اور تیری پرستش ہوتی ہے۔ اے اگنی آج ہماری خوش ذائقہ قربانی دیوتاؤں کو ان کے کھانے کے واسطے پیش کر۔ اے اگنی وایو سورج وغیرہ دیوتاؤں کو ہماری نذر پیش کر۔ اے بے عیب اگنی تو منجملہ اور دیوتاؤں کے ایک ہوشیار دیوتا ہے تو اپنے والدین کے پاس رہتا ہے اور ہمیں اولاد عطا کرتا ہے تمام دولتوں کا تو ہی بخشنے والا ہے۔ اگنی کا مبارک نام لے کر پکارو جو کہ سب سے پہلا دیوتا ہے۔ اے اگنی سرخ گھوڑوں کے سوامی ہمارے استت سے پرسن ہو تینتیس دیوتاؤں کو یہاں لا۔ اے اگنی جیسا کہ تو ہے لوگ اپنے گھروں میں تجھے محفوظ جگہ میں ہمیشہ روشن کرتےؔ ہیں۔ تو جو سب کی زندگانی کا باعث ہے ہمارے فائدہ کے لئے دولت والا ہو جا۔ اے عاقل اگنی تو نپاپت