جس سعادت کے لئے وہ پیدا کیا گیا تھا اس سعادت سے محروم رہ جاتا۔ سو جس خدا نے انسان کو نظر اورؔ فکر کرنے کی قوتیں عنایت کیں ہیں اور اس کو ایک کمال حاصل کرنے کی استعداد بخشی ہے اس کی نسبت یہ کیونکر بدگمان کیا جائے احراق دور کرنے کے لئے اُسی کے وجود میں کوئی ایسے اسباب پیدا کردے۔ جن سے خاؔ صیت احراق دور ہوجائے۔ کیونکہ اُس کی غیرمتناہی حکمتوں اور قدرتوں کے آگے کوئی بات اَن ہونی نہیں۔ اور جب ہم اُس کی حکمتوں اور قدرتوں کو غیر متناہی کی توقع رکھنا کمال حماقت ہے۔ اگر وید اس سہل اور آسان طریق میں مقابلہ قرآن شریف کرسکے گا تو پھر شاید وہ ان دقائق قرآنیہ میں بھی مقابلہ کرسکے جن میں قرآن شریف کا یہ دعویٰ ہے کہ اس کے مقابلہ سے دوسری تمام کتابیں عاجز ہیں۔ لیکن اگر اسی جگہ آریا صاحبوں کا وید مردہ کی طرح بے حس و حرکت رہ گیا اور ایک ذرہ سی بات میں بھی قرآن شریف کے سامنے دم نہ مارسکا تو پھر ایسے وید پر ناز کرکے یہ خیال کرنا کہ وہ قرآن شریف کے اعلیٰ حقائق و دقائق کا مقابلہ کرلے گا کمال درجہ کی نادانی ہے۔ اور اس جگہ یہ بھی ناظرین پر ظاہر کیا جاتا ہے کہ چونکہ محققین ہنود نے اپنشدوں کو ویدوں میں داخل نہیں سمجھا اور نہ اپنے پرمیشر کا کلام ان کو قرار دیا ہے۔ بلکہ صاف صاف یہ رائے ظاہر کی ہے کہ وہ بعض لوگوں کے اپنے ہی خیالات ہیں جیسا کہ پنڈت دیانند کی بھی یہی رائے ہے اور تمام نامی اور لائق فائق پنڈت اسی رائے پر متفق ہیں۔ اس لئے غیر ضروری معلوم ہوا کہ اپنشدوں کے مضامین کی تفتیش کی جائے۔ کیونکہؔ جب وہ عبارتیں وید میں داخل ہی نہیں ہیں۔ بلکہ باقرار پنڈت دیانند اور دوسرے محققین کے وید کی تعلیم کے مطابق بھی نہیں۔ ایک فضول اور بے تعلق حواشی ہیں کہ جو بعض ناسمجھ برہمنوں نے پیچھے سے چڑھا دیئے ہیں۔ تو اس صورت میں گو اپنشدوں میں کیسی ہی غلطیاں کیوں نہ ہوں مگر اس جگہ ان کا بیان کرنا محض طول بلاطائل ہے۔ ہاں خالص ویدوں میں سے جن کو آریہ لوگ اپنے پرمیشر کا کلام اور ست ودیانوں کا پستک سمجھ رہے ہیں۔