ذریعہ ہی مفقود ہوجاتا تو پھر انسان کن امور میں نظر اورؔ فکر کرتا۔ اور اگر وہ نظر اور فکر نہ کرتا تو ایک حدّ معلوم اور محدود پر اس کو بھی مثل اور جانداروں کے ٹھہرنا پڑتا اور ترقیات غیر متناہی کی قابلیت نہ رکھتا۔ پس اس صورت میں کے آگے بے شمار میدان قدرتوں کے پڑے ہیں۔ نہ اندرونی طور پر کسی جگہ انتہاؔ ہے اور نہ بیرونی طور پر کوئی کنارہ ہے۔ جس طرح یہ ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ ایک مشتعل آگ کی تیزی فرو کرنے کے لئے خارج میں کوئی ایسے اسباب پیدا کرے جن سے اس آگ کی تیزی جاتی رہے۔اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ اُس آگ کی خاصیّت ادا کرنے کے لئے کیسی کیسی موشگافی و دقیقہ رسی انہوں نے کی ہے اور کہاں تک اپنے مدلل و موجز بیان سے جہل کی تاریکی کو اٹھانے کے لئے علم کی روشنی دکھلائی ہے اور وحدانیت الٰہی کی خوبیاں اور شرک کی قباحتیں ظاہر کی ہیں۔ لیکن اگر کسی کو یہ شک ہو کہ شاید رگ وید میں ایسی شرتیاں بھی ہوں گی، جو کہ بیان توحید میں قرآن شریف کا مقابلہ کرسکیں تو اسے اختیار ہے کہ وہی شرتیاں بید مذکور سے بیان کرے تا آریہ لوگ جو رگوید رگوید کررہے ہیں سب ویدوں سے پہلے اسی کا فیصلہ ہوجائے۔ اس جگہ یہ بھی یاد رہے کہ قرآن شریف کی بے نظیر بلاغت اورؔ اس کے ہزارہا دقائق وحقائق جن کے مقابلہ پر انسانی قوتیں ساقط و عاجز ہیں اپنے موقعہ پر ذکر کئے جائیں گے اس جگہ صرف بعض آریوں کے اصرار سے جو کہ بمقابلہ قرآن شریف وید کی بلاغت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ کسی قدر آیات قرآنی اس غرض سے لکھی جاتی ہیں تاکہ ان کی زبان درازی کو ایسے آسان طور پر روکا جائے جس سے منصفین پر وید کا بالکل ہیچ اور ناچیز ہونا کھل جائے اور یہ بات ظاہر ہوجائے کہ وید میں اس قدر قوت بیانی بھی نہیں کہ وہ اپنے منشاء مراد کو صفائی سے بیان کرسکے چہ جائیکہ اس کو قرآن شریف کی اعلیٰ بلاغتوں کے ساتھ دم مارنے کی طاقت ہو کیونکہ اس موقعہ سے ہریک منصف سمجھ سکتا ہے کہ جو کتاب اپنے مطلب کو صفائی سے بھی بیان نہیں کرسکتی اس پر اور مراتب بلاغت و فصاحت