نادان میںؔ فرق کیا ہوتا۔ اس طور سے تو سارے علم ہی برباد ہوجاتے۔ اور جو عمدہ معیار استعدادوں کی شناخت کے لئے ہے اور جس ذریعہ سے انسان کی قوت نظریہ بڑھتی ہے اور استکمالِ نفس ہوتا ہے وہ مفقود ہوجاتا۔ اور جب وہ قادرانہ اور غیر متناہی حکمتیںؔ تصرف فی العالم سے کسی وقت عاجز ہوسکتی ہیں۔ بلاشبہ اس کا پرزور ہاتھ ذرہ ذرہ پر قابض ہے اور کسی مخلوق کا قیام اور بقا اپنی مستحکم پیدائش کے موجب سے نہیں۔ بلکہ اسی کے سہارے اور آسرے سے ہے اور اس کی ربانی طاقتوں توپھر یہ کہنا پڑے گا کہ اس کو بات کرنے کا سلیقہ بالکل یاد نہیں اور اس میں یہ لیاقت ہی نہیں کہ اپنے منشاء کو مخاطبین پر اچھی طرح ظاہر کرسکے تو اس صورت میں وید کا بلاغت کے مرتبہ سے ساقط ہونا ایسا ظاہرؔ ہے کہ حاجتِ بیان نہیں۔ ایسے کلام کسی عاقل کے نزدیک بلیغ و فصیح نہیں کہلاسکتے جس کے الفاظ معانی پر دلالت نہیں کرتے بلکہ برخلاف مراد اور اور مفاسد کی طرف کھینچتے ہیں۔ جس شرتی پر نظر ڈال کر دیکھو بجائے رہبری کے رہزنی کررہی ہے۔ یہ خوب بلاغت ہے اور عجب فصاحت مافی الضمیر سمجھانے کا طریق بھی وید ہی پر ختم ہے۔ یوں تو کسی صاحب کو شاید یقین نہ آوے مگر ہم بطور نمونہ رگوید میں سے جو کہ سب ویدوں میں اعلیٰ اور افضل شمار کیا جاتا ہے۔ کسی قدر ایسی شرتیاں لکھتے ہیں جن کی نسبت آریاؤں کا خیال ہے کہ ان میں توحید کی تعلیم ہے۔ اور پھر بعد اس کے کسی قدر بطور نمونہ وہ آیات لکھیں گے جو کہ قرآن شریف نے توحید کے بارے میں لکھی ہیں تا ہریک کو معلوم ہو کہ وید اور فرقان میں سے کس نے مسئلہ توحید کو صفائی و شائستگی و پرزور بیان اور بلیغ تقریر میں بیان کیا ہے اور کس کا بیان مہمل اور بے سروپا اور طرح طرح کے شکوک و شبہات میں ڈالتا ہے۔ کیونکہ جیسا کہ ہم لکھ چکے ہیں۔ بلاغت کے آزمانے کے لئے یہی سہل طریق ہے کہ جن دو کلاموں کا موازنہ و مقابلہ منظور ہو۔ ان کی قوت بیانی کو دیکھا جائے کہ کس مرتبہ تک ہے اور اپنے فرض منصبی کے