حکمت اور معرفت میں ترقی کرتے ہیں اور حق الیقین کے اس بلند مینار تک پہنچ جاتے ہیں جو انسانی استعدادوں کے لئے اقصیٰ مراتب سے ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اگر اسرارِ علمیہ سارے کے سارے بدیہات ہی ہوتے تو پھر دانا اور آجائیں۔ ان کا مفہوم محدود ہونے کو لازمؔ پڑا ہوا ہے۔ اور جو حکمتیں اور قدرتیں ذات غیر محدود میں پائی جاتی ہیں۔ ان کا غیر محدود ہونا واجب ہے۔ کیا کوئی دانا کہہ سکتا ہے کہ اس ذات قادر مطلق کو اس اس طور پر بنانا یاد ہے اور اس سے زیادہ نہیں۔ کیا اس کی غیر متناہی قدرتیں انسانی قیاس کے پیمانہ سے وزن کی جاسکتی ہیں یا اس کی بلاغت کس قسم کی بلاغت ہے جس کا منشاء تو توحید تھا مگر برخلاف اس کے صدہا دیوتاؤں کا جھگڑا شروع کردیا جو کلام اپنا منشاء ظاہر کرنے سے بھی عاجز ہے خدا نہ کرے کہ وہ فصیح و بلیغ ہو۔ کلام بلیغ میں ایسی خرابی کب پڑسکتی ہے کہ جو امر اصل مقصود بالذات ہو۔ وہی صفائی اور شائستگی سے بیان نہ ہوسکے۔ بلاغت کی اول شرط یہی ہے کہ متکلم اپنا مافی الضمیر ظاہر کرنے پر بخوبی قادر ہو اور جس امر کو ظاہر کرنا چاہے ایسا صفائی سے ظاہر کرے کہ کوئی اشتباہ باقی نہ رہ جائے۔ گونگوں کی طرح مبہم اور بے سروپا بات نہ کہے۔ ہاں جس بات کو مخفی رکھنا اور بطور اسرار بیان کرنا مصلحت ہو۔ اس کو مخفی طور پر بیان کرنا ہی بلاغت ہے۔ مگر توحید جس سے کل معاملہ نجات کا وابستہ ہے ایسا امر نہیں ہے جس کو مخفی رکھنا جائز ہو۔ پس یہ کہنا بھی درست نہیں ہے کہ وید نے بالارادہ مضمون توحید کو چیستوں اور پہیلیوں کی طرح بیان کیا ہے اور دانستہ دھوکا دینے والی عبارتیں درج کی ہیں۔ کیونکہ اس سے یہ ماننا پڑے گا کہ وید نے عمداً چندیں کروڑ آدمیوں کو ورطہ ہلاکت میں ڈالنا چاہا اور جان بوجھ کر ایسی عبارتیں لکھی ہیں۔ جن کے پڑھنے سے مخلوق پرستی کی تعلیم پھیلتی ہے۔ بلکہ اس صورت میں عام ہندوؤں کی یہ رائے درست ہوگی کہ وید کا دلی منشاء یہی تھا کہ آریا قوم کو دیوتاؤں کا پجاری بناوے۔ اور اگر وید کا دلی ارادہ مخلوق پرستی کے برخلاف سمجھیں