ہیں اور ان نفوس کے لئے مقرر کئے گئے ہیں جن میں صلاحیت اور استعداد تحصیل کمالات فاضلہ کی پائی جاتی ہے۔ اور جو لوگ ہریک غبی اور بلید کی طرح ان مسائل پر کفایت کرنا نہیں چاہتےؔ وہ بذریعہ ان دقائق کے
ہونا لازم آجائے گا۔ پس برہمو سماج والوں کی یہی بھاری غلطی ہے کہ وہ خدائے تعالیٰ کی غیر متناہی قدرتوں اور ربوبیتوں کو اپنے تنگ اور منقبض تجارب کے دائرہ میں گھسیڑنا چاہتے ہیں اور نہیں سمجھتے کہ جو امور ایک قانون مشخص مقرر کے نیچے
کے لئے ضروری ہیں۔ وہ سب بیان کئے ہیں اور وحدانیت الٰہی کو ثابت کرکے دکھلایا ہے۔ اور آگ وغیرہ کی پرستش سے منع کیا ہے تو یہ دعویٰ کسی طرح سرسبز نہیں ہوسکتا۔ کون اس بات کو نہیں جانتا کہ وید کے مضمون اسی کی طرف جھکے ہوئے ہیں کہ تم آگ کی پرستش کرو۔ اندر کے بھجن گاؤ۔ سورج کے آگے ہاتھ جوڑو۔ اب ظاہر ہے کہ جس حالت میں بقول تمہارے وید کا یہ منشاء تھا کہ توحید کو بیان کرے اور سورج چاند وغیرہ کی پرستش سے روکے اور مشرکوں کو توحید کے درجہ تک پہنچاوے اور بگڑے ہوئے لوگوں کو اصلاح پر لاوے اور مخلوق پرستوں کو خدا پرست بناوے اور اہل شرک کے تمام وساوس مٹاوے۔ لیکن بجائے اس کے کہ وہ اپنے اس منشاء کو پورا کرتا۔ جابجا اس کے بیان سے مخلوق پرستی کی تعلیم جمتی گئی، جس تعلیم نے کروڑوں کی کشتی کو ڈبویا۔ لاکھوں کو ورطۂ شرک و کفر میں غرق کیا۔ ایک جگہ بھی مونہہ کھول کر وید نے بیان نہ کیا کہ مخلوق پرستی سے باز آجاؤ۔ آگ وغیرہ کی پوجا مت کرو۔ بجز خدا کے اور کسی چیز سے مرادیں مت مانگو۔ خدا کو بے مثل و مانند سمجھو۔ اس صورت میں ہریک عاقل آپ ہی انصاف کرے کہ کیا فصیح کلام کی یہی نشانیاں ہوا کرتی ہیں کہ مافی الضمیر کچھ ہے اور مونہہ سے کچھ اور ہی نکلتا جاتا ہے۔ اس قدر لغو بیانی تو مجانین اور مسلوب الحواسوں کے کلام میں بھی نہیں ہوتی۔ وہ بھیؔ اس قدر قوت بیانی رکھتے ہیں کہ اپنا دلی منشاء ظاہر کردیتے ہیں۔ جب پانی کی خواہش ہوآگ نہیں مانگتے اور اگر روٹی کی طلب ہو تو پتھر نہیں طلب کرتے۔ مگر میں حیران ہوں کہ وید کی