اَدنیٰ اور اَرذل ہے کہ دقائق مخفیہ میں ایک مکھی کے مرتبہ تک بھی نہیں پہنچتا۔ اور اس جگہ یہ بھی واضح رہے کہ خدا نے ضروریات دین میں سے کسی امر کا اخفاؔ نہیں کیا۔ اور دقائق عمیقہ وہ دقائق ہیں جو ماسوا اصل اعتقاد کے بالائی امور اُس کا اِس سلسلہ سے باہر نہ ہو اور نہ غیر معلوم اور نامفہوم ہو تو وہ چیز محدود ہوتی ہے۔ اب اگر خدائے تعالیٰ کی قدرت کاملہ و ربوبیت تامہ کو قوانین محدودہ محصورہ میں ہی منحصر سمجھاؔ جائے۔ تو جس چیز کو غیر محدود تسلیم کیا گیا ہے۔ اس کا محدود جو حق اور حکمت کی روشنی دکھلانے پر منحصر ہے کیونکر اس کو نصیب ہوسکتی ہے۔ کیا ہم ایسے کلام کو بلیغ کہہ سکتے ہیں جس کی نسبت دعویٰ تو یہ کیا جاتا ہے کہ اس کا مقصود اصلی شرک کا مٹانا اور توحید کا قائم کرنا ہے۔ لیکن وہ گونگوں کی طرح اس دعویٰ کو بہ پایہ صداقت پہنچانے سے عاجز رہاہے۔ ہرایک عاقل جانتا ہے کہ وجوہ بلاغت میں سے نہایت ضروری ایک یہ وجہ ہے کہ جس بات کا ظاہر کرنا اور کھولنا مقصود ہو اس کو اس طرح کھول کر بتلایا جاوے کہ طالب حق کی تسلی کے لئے کافی ہو اور سب کو معلوم ہے کہ وہی شخص فصیح کہلاتا ہے جو کہ اپنے مطلب کو ایسے عمدہ طور پر ادا کرے کہ گویا اپنے مافی الضمیر کا نقشہ کھینچ کر دکھلاوے۔ اب اگر آریا صاحبوں کا دعویٰ یہ ہوتا کہ وید کا اصلی مطلب مخلوق پرستی کی تعلیم ہے۔ تو شاید اس کی نسبت گمان ہوسکتا کہ وہ بلاغت کے درجہ سے بکلّی ساقط نہیں۔ کیونکہ گو وید نے حقیقی بلاغت کے مذاق پر مخلوق پرستی پر کوئی دلیل بیان نہیں کی اور اس کو ثابت کرکے نہیں دکھلایا۔ مگر تاہم واضح کلام سے کہ بلاغت کیؔ ایک جز ہے اپنا منشاء دیوتاؤں کی پوجا کی نسبت کھول کر بیان کردیا اور اگنی اور وایو اور اندر وغیرہ کی تعریف میں صدہا منتر جنتر بنا ڈالے۔ اور ان چیزوں سے گوئیں اور گھوڑے اور بہت سا مال بھی مانگا۔ لیکن اگر یہ دعویٰ کیا جائے کہ وید نے اپنی قوت بیانی اور کمال بلاغت سے توحید کے بیان کرنے میں زور لگایا ہے اور مشرکین کے اوہام اور وساوس کو دلائل واضحہ سے مٹایا ہے اور جو جو براہین اقامت توحید اور ازالۂ شرک