ایسے ایسے شبہات میں مبتلا ہونا انہیں لوگوں کا کام ہے جو قوانین قدرتیہ میں ذرہ غورؔ نہیں کرتے۔ اور قبل اس کے کہ خدا کی صفات اور عادات کو(جس طرز سے وہ آئینہ فطرت میں ظاہر ہورہی ہیں) بخوبی دریافت کریں پہلے ہی اس کی ذات عالم کے متعلق انسان نے دریافت کیا ہے اور جو کچھ تاؔ دم حال بشری تجارب کے احاطہ میں آچکا ہے یہیں تک خدا کی قدرتوں کی حد بست ہے اور اس سے بڑھ کر اس کی قدرت تامہ اور ربوبیت عامہ کوئی کام نہیں کرسکتی گویا خدا کی قدرتیں اور حکمتیں ہمگی تمامی یہی ہیں جن کو انسان دریافت کرچکا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ اعتقاد ربوبیت تامہ اور اسی طرح اندرنے ورترا کے سر پر ایسا بجر مارا جو اسے ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور پانی قطرہ قطرہ ہوکر بہ نکلا لیکن ظاہر ہے کہ اس قسم کے تلازمات کو قرآن شریف سے کچھ بھی مناسبت نہیںؔ صرف شاعرانہ خیالات ہیں اور پھر بھی ایسے قابل تعریف و باوقعت نہیں بلکہ اکثر مقامات سخت نکتہ چینی کے لائق ہیں۔ مثلاً استعارۂ مذکورہ بالا جس میں اندرکو ایک بوچڑ سے تشبیہ دی ہے جس کا کام گائے کا گوشت فروخت کرنا ہے۔ یہ ایک ایسا مضمون ہے کہ جو لطیف طبع شاعروں کے کلام میں ہرگز نہیں آسکتا۔ کیونکہ شاعر کو یہ بھی خیال کرلینا لازم ہے کہ میرے اس مضمون سے عام لوگ کراہت تو نہیں کریں گے مگر اس شرتی میں یہ خیال نظر انداز ہوگیا ہے کیونکہ ظاہر ہے کہ ہندو لوگ جو وید کے مخاطب ہیں وہ گائے کے گوشت کا نام سننے سے متنفر ہیں اور ان کی طبیعتوں پر ایسا ذکر سخت گراں گذرتا ہے۔ اور پھر اندر کو جو وید میں ایک بزرگ دیوتا مقرر ہوچکا ہے بوچڑ سے تشبیہ دینا اور بعد بزرگ قرار دینے کے پھر اس کی ہجو ملیح کرنا شائستگی کلام سے بعید اور ایک طرح کی بے ادبی ہے۔ ماسوا اس کے اس تشبیہ میں ایک اور بھی نقص ہے۔ وہ یہ ہے کہ تشبیہ اس امر میں چاہئے کہ مشہور اور معروف ہو۔ پس یہ کہنا کہ اندرنے ورترا کو ایسا ٹکڑے ٹکڑے کردیا جیسے بوچڑ گائے کے گوشت کے ٹکڑے ٹکڑے کرتا ہے۔ یہ تشبیہ فن بلاغت کے رو سے تب درست بیٹھتی ہے کہ جب یہ ثابت ہوکہ وید کے زمانہ میں عام طور پر گائے کا گوشت بازاروں میں بکتا تھا اور بوچڑ لوگ ٹکڑے ٹکڑے کرکے وہ گوشت آریا