اور اس کی صفات کا حلیہ لکھنے بیٹھ جاتے ہیں۔ ورنہ اگر انسان ذرا بھی آنکھ کھول کر ہریک طرف نظر ڈالے تو عادت اللہ کسی ایکؔ یا دو چیز میں محصور نہیں اور نہ ایسی پوشیدہ ہے جس کا سمجھنا مشکل ہو۔ بلکہ یہ بات اجلیٰ بدیہات ہے کہ جواہر لطیفہ اور مصنوعات عالیہ قدرت کاملہ کے مفہوم سے بکلی منافیؔ ہے۔ کیونکہ ربوبیت تامہ اور قدرت کاملہ وہ ہے کہ جو اس ذات غیر محدود کی طرح غیر محدود ہے اور کوئی انسانی قاعدہ اور قانون اس پر احاطہ نہیں کرسکتا۔ لوگوں کو دیتے تھے مگر حال کے آریا لوگ ہرگز اس کے قائل نہیں۔ اب ظاہر ہے کہ کلام میں ایسی تشبیہ بیان کرنا جس کا خارج میں وجود ہی نہیں بلکہ جس سے لوگ متنفر ہیں دائر ۂفصاحت بلاغت سے بالکل خارج ہے۔ اگر ایک لڑکا بھی اپنے کلام میں ایسی تشبیہ بیان کرے تو وہ دانشمندوں کے نزدیک قابل ملامت اور سادہ لوح ٹھہرتا ہے۔ کیونکہ تشبیہ کا لطف تب ہی ظاہر ہوتا ہے کہ جب مشابہت ایسی ظاہر ہو کہ جس چیز سے تشبیہ دی گئی ہے سامعین اسؔ سے بخوبی واقفیت رکھتے ہوں اور ان کی نظر میں وہ چیز بدیہی الظہور اور مسلم الوجود ہو۔ اور نیز ان کی طبیعتیں بھی اس کے ذکر سے کراہت نہ کرتی ہوں لیکن کون ثابت کرسکتا ہے کہ وید کے زمانہ میں ہندوؤں میں گائے کا گوشت بیچنا اور خریدنا اور کھانا ایک عام رواج تھا جس سے آریا قوم کو نفرت نہ تھی۔ اور اگر یہ بھی خیال کیا جائے کہ خود وید کا ہی ذکر کرنا اس رواج پر ثبوت ہے تو ایسا خیال کرنے سے بھی بکلّی اعتراض مرتفع نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ گائے کے لہو اور گوشت سے پانی کو عمدہ مشابہت حاصل نہیں۔ ہاں گائے کے دودھ کو مصفا پانی سے مشابہت حاصل ہے۔ سو اگر مثلاً رگ وید سنتھااشتک اول سکت ۶۱ کی یہ شرتی جس میں یہ لکھا ہے اے اندرورترا پر اپنا بجر چلا اور اسے ایسا ٹکڑے ٹکڑے کر جیسے بوچڑ گائے کے ٹکڑے ٹکڑے کرتا ہے۔ اس طرح پر ہوتے کہ جب اندرنے اپنے بجر سے ورترا کو دبایا۔ تو اس میں