کہ ان کی ناواقفیت سے ایک زمانۂ درازؔ تک لوگ بے علاج ہی مرتے رہے اور اب تک جمیع خواص مخفیہ پر احاطہ نہ ہوا۔ لیکن ظاہر ہے کہ بعد تحقق خدا کے عام قانون کے(جو کہ زمین و آسمان میں ایک ہی طرز پر پایا جاتا ہے)
کسی مادہ حار کو اس کی تاثیر حرارت سے روک سکے یا ؔ کسی مادہ بارد کو اس کی برودت کے اثروں سے بند کرسکے یا آگ میں اس کی خاصیت احراق کی ظاہر نہ ہونے دے۔ اور اگر اس کو کوئی تدبیر یاد بھی ہے تو صرف انہیں حدود تک جن پر علم انسان کا محیط ہے اس سے زیادہ نہیں یعنی جو کچھ محدود اور محصور طور پر کوائف و خواص
باوصف اس کے ضرورت حقہ کے تقاضا سے ذکر ہونہ غیر ضروری طورؔ پر اور پھر کلام بھی ایسا فصیح اور سلیس اور متین ہو کہ جس سے بہتر بنانا ہرگز کسی کے لئے ممکن نہ ہو۔ اور پھر وہ کلام روحانی برکات بھی اپنے ہمراہ رکھتا ہو۔ یہی قرآن شریف کا دعویٰ ہے جس کو اس نے آپ ثابت کردیا ہے۔ اور اور جابجا فرما بھی دیا ہے کہ کسی مخلوق کے لئے ممکن نہیں کہ اس کی نظیر بناسکے۔ اب جو شخص منصفانہ طور پر بحث کرنا چاہتا ہے۔ اس پر یہ امر پوشیدہ نہیں کہ قرآن شریف کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لئے ایسی کتاب کا پیش کرنا ضروری ہے جس میں وہی خوبیاں پائی جائیں جو اس میں پائی جاتی ہیں۔ سچ ہے کہ وید میں شاعرانہ تلازمات پائے جاتے ہیں اور شاعروں کی طرح انواع اقسام کے استعارات بھی موجود ہیں۔ مثلاً رگ وید میں ایک جگہ آگ کو ایک دولتمند فرض کرلیا ہے جس کے پاس بہت سے جواہرات ہیں اور اس کی روشنی کو جوہرِ تاباں سے تشبیہ دی ہے۔ بعض جگہ اس کو ایک سپہ سالار مقرر کیا ہے جس کی کالی جھنڈی ہے۔ اور دھوئیں کو جو آگ پر اٹھتا ہے ایک علم سیہ ٹھہرا لیا ہے۔ ایک جگہ اس حرارت کو جو بخارات مائی کو اٹھاتی ہے چور مقرر کیا ہے اور اس کا نام بلحاظ قوت ماسکہ ورترا رکھا ہے اور بخارات کو گوین ٹھہرایا ہے اور اندر جس سے وید میں آسمان کا فضا اور خاص کرکے کرہ زمہریر مراد ہے۔ اس کو اس مثال میں قصاب سے تشبیہ دی ہے۔ اور لکھا ہے کہ جس طرح قصاب گائے کے گوشت کو ٹکڑے ٹکڑے کرتا ہے۔