ظاہر ہو کہ خودؔ وہ قیاس ہی فاسد ہے اور بعینہ وہ ایسا مقولہ ہے جیسے کوئی نباتات کے خواص دقیقہ سے انکار کرکے یہ کہے کہ اگر خدا نے بالارادہ خلق اللہ کی نفع رسانی کی غرض سے یہ کام کیا ہے کہ انسان کی شفا کے لئے نباتات و جمادات وغیرہ میں طرح طرح کے خواص رکھے ہیں تو پھر ان خواص کو اس قدر تہ در تہ کیوں چھپایا ہوئی ہیں اور خدائے تعالیٰ کو قدرت نہیں ہے کہ ان میں کچھ تصرف کرے یا کچھ تغیر اور تبدل ظہور میں لاوے۔ اور ان کی زعم باطل میں قوانین نیچریہ کی مستحکم اور پائدار بنیاد نے قادر مطلق کو معطل اور بیکار کی طرح کردیا ہے۔ اور ان میں تصرف کرنے کے لئے کوئی راہ اس پر کھلا نہیں۔ اور ایسی کوئی بھی تدبیر اس کو یاد نہیں۔ جس سے وہ مثلاً فصاحت بلاغت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ لیکن ہم اس امر کو بار بار غافل لوگوں پر ظاہر کرنا فرض سمجھتے ہیں کہ قرآن شریف کی بے نظیری سے صرف وہ شخص انکار کرسکتا ہے جس کو یہ طاقت ہو کہ جو کچھ قرآن شریف کی وجوہ بے نظیری اس کتاب میں بطور نمونہ درج کی گئی ہیں۔ کسی دوسری کتاب سے نکال کر دکھلاسکے۔ سو اگر آریا سماج والوں کو اپنے وید پر یہ امید ہے کہ وہ قرآن شریف کا مقابلہ کرسکے گا تو انہیں بھی اختیار ہے کہ وید کا زور دکھلاویں۔ مگر صرف دعویٰ ہی دعویٰ کرنا اور اوباشانہ باتیں مونہہ پر لانا نیک طینت آدمیوں کا کام نہیں۔ انسان کی ساری شرافت اور عقل اس میں ہے کہ اگر اپنے دعویٰ پر کوئی دلیل ہو تو پیش کرے۔ ورنہ ایسا دعویٰ کرنے سے ہی زبان بند رکھے۔ جس کا ماحصل بجز فضول گوئی و ژاژخائی اور کچھ بھی نہیں۔ سمجھنا چاہئے کہ قرآن شریف کی بلاغت ایک پاک اور مقدس بلاغت ہے۔ جس کا مقصد اعلیٰ یہ ہے کہ حکمت اور راستی کی روشنی کو فصیح کلام میں بیان کرکے تمام حقائق اور دقائق علم دین ایک موجز اور مدلل عبارت میں بھر دیئے جائیں۔ اور جہاں تفصیل کی اشد ضرورت ہو۔ وہاں تفصیل ہو۔ اور جہاں اجمال کافی ہو۔ وہاں اجمال ہو اور کوئی صداقت دینی ایسی نہ ہو جس کا مفصلاً یا مجملاً ذکر نہ کیا جائے اور