متواتر تجربہ سے ایک چیز کی کوئی خاصیت معلوم ہوگئی تو پھر مجرد قیاس کو اپنی دستاویز بنا کر اس امر واقعی سے جو بہ پایہ ثبوت پہنچ چکا ہے۔ انکار کرنا اسی کا نام جنون اور سودا ہے۔ اگر یہ لوگ عقل خداداد کو ذرا کام میں لاویں۔ تو ان پر
خدا کا رب العالمین ہونا کہ جو ربوبیت تامہ سے مراد ہے برہمو لوگوں کی سمجھ اور عقل سے اب تک چھپا ہوا ہے اور وہ لوگ ربوبیت الٰہیہ کا دنیا پر اس سے زیادہ اثر نہیں سمجھتے کہ اس نے کسی وقت یہؔ تمام عالم معہ اس کی تمام قوتوں اور طاقتوں کے پیدا کیا ہے۔ لیکن اب وہ تمام قوتیں اور طاقتیں مستقل طور پر اپنے اپنے کام میں لگی
خارج ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے عرب کے نامی شاعروں کو کہ جن کی عربی مادری زبان تھی اور جو طبعی طور پر اور نیز کسبی طور پر مذاق کلام سے خوب واقف تھے ماننا پڑا کہ قرآن شریف انسانی طاقتوں سے بلند تر ہے اور کچھ عرب پر موقوف نہیں بلکہ خود تم میں سے کئی اندھے تھے کہ جو اس کامل روشنی سے بینا ہوگئے اور کئی بہرے تھے کہ اس سے سننے لگ گئے اور اب بھی وہ روشنی چاروں طرف سے تاریکی کو اٹھاتی جاتی ہے اور قرآن شریف کے انوار حقہ دلوں کو منور کرتے جاتے ہیں۔ واقعی یہ حال ہورہا ہے کہ جس قدرلوگوں کی آنکھیں کھلتی جاتی ہیں۔ اسی قدر قرآن شریف کی عظمت کے قائل ہوتے جاتے ہیں۔ چنانچہ بڑے بڑے متعصب انگریزوں میں سے جو کہ حکیم اور فلاسفر کہلاتے تھے خود بول اٹھے کہ قرآن شریف اپنی فصاحت اور بلاغت میں بے نظیر ہے یہاں تک کہ گاد فری ہیکنس۱ صاحب جیسے سرگرم عیسائی کو اپنی کتاب کی دفعہ ۲۲۱ میں لکھنا پڑا کہ حقیقت میں جیسی عالی عبارتیں قرآن میں پائی جاتی ہیں۔ اس سے زیادہ غالباً دنیا بھر میں نہیں مل سکتیں۔ اور ایسا ہی یوٹ۲ صاحب کو بمجبوری اپنی کتاب میں یہی گواہی دینی پڑی۔
آریا سماج والے جو خدا کے الہام اور کلام کو وید پر ختم کئے بیٹھے ہیں وہ بھی عیسائیوں کی طرح قرآن شریف کیؔ بے نظیری سے انکار کرکے اپنے وید کی نسبت