انسان کے استعمال قوت نظریہ سے وابستہ ہے۔ اس لئے اس حکیم مطلق نے اکثر دقائق اورؔ حقائق کو ایسے طور پر مخفی رکھا ہے کہ جب تک انسان اپنی خداداد قوت کو بکمال اجتہاد استعمال میں نہ لاوے۔ ان دقائق کا انکشاف نہیں ہوتا۔ اس سے حکیم مطلق کا یہ ارادہ ہے کہ ترقی کرنے کا راستہ کھلا رہے۔ اور جس سعادت کے لئے
خیالات ان کے فاسد ہوگئے تھے اور خدائے تعالیٰ کی صفات کاملہ ربوبیت و رحمانیت و رحیمیت اور مالک یوم الدین ہونے پر اعتقاد نہیں رکھتے تھے نہ ان صفتوں کو اس کی ذات سے مخصوص سمجھتے تھے اور نہ ان صفتوں کا کامل طور پر خدائے تعالیٰ میں پایا جانا یقین رکھتے تھے بلکہ بہت سی بدگمانیاں اور بے ایمانیاں اور آلودگیاں ان کے اعتقادوں میں بھرگئی تھیں اور توریت کی تعلیم کو انہوں نے نہایت بدشکل چیز کی طرح بناکر شرک اور بدی کی بدبو کو پھیلانا شروع کررکھا تھا۔ پس وہ لوگ خدائے تعالیٰ کو جسمانی اور جسم قرار دینے میں اور اس کی ربوبیت اور رحمانیت اور رحیمیت وغیرہ صفات کے معطل جاننے میں اور ان صفتوں میں دوسری چیزوں کو شریک گرداننے میں اکثر مشرکین کے پیشوا اور سابقین اولین میں سے ہیں۔
یہؔ تو یہودیوں کا حال ہوا۔ مگر افسوس کہ عیسائیوں نے تھوڑے ہی دنوں میں اس سے بدتر اپنا حال بنالیا۔ اور مذکورہ بالا صداقتوں میں سے کسی صداقت پر قائم
کمال مطلوب تک پہنچتے ہیں۔ اور یہی وہ صنعتِ ربانی ہے جس کا انجام پذیر ہونا بجز الٰہی طاقت اور اس کے علم وسیع کے ممکن نہیں۔ خدائے تعالیٰ اپنے کلام کے ایکؔ ایک فقرہ کی سچائی کا ذمہ وار ہے اور جو کچھ اس کی تقریر میں واقعہ ہے خواہ وہ اخبار اور آثار گذشتہ ہیں خواہ وہ آئندہ کی خبریں اور پیشگوئیاں ہیں اور خواہ وہ علمی اور دینی صداقتیں ہیں۔ وہ تمام کذب اور ہزل اور بیہودہ گوئی کے داغ سے منزہ ہیں۔ اور اگر ایک ذرہ بھی خلاف گوئی یا فضولی اور لاف و گذاف ان میں پایا جاوے۔