کو نہیں ملا عطا ہوا۔ ظاہر ہے کہ اگر یہ تمام عجائب غرائبؔ الٰہی بدیہی طور پر واضح اور لایح ہوتے جن میں نظر اور فکر کی کچھ بھی حاجت نہ ہوتی تو پھر انسان جس کا کمال اس کی قوت نظریہ تکمیل پر موقوف ہے۔ کن چیزوں میں نظر اور فکر کرتا۔ اور اگر نظر اور فکر نہ کرتا تو پھر کیونکر اپنے کمال کو پہنچتا۔ سو چونکہ تمام انسانیت
عورتوں کو خدا کی بیٹیاں لکھا گیا ہے اور کسی جگہ بیبل میں یہ بھی فرما دیا ہے کہ تم سب خدا ہی ہو۔ اور سچ تو یہ ہے کہ عیسائیوں نے بھی انہیں تعلیموں سے مخلوق پرستی کا سبق سیکھا ہے کیونکہ جب عیسائیوں نے معلوم کیا کہ بائیبل کی تعلیم بہت سے لوگوں کو خدا کے بیٹے اور خدا کی بیٹیاں بلکہ خدا ہی بناتی ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ آؤ ہم بھی اپنے ابن مریم کو انہیں میں داخل کریں تا وہ دوسرے بیٹوں سے کم نہ رہ جائے۔ اسی جہت سے خدائے تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے کہ عیسائیوں نے ابن مریم کو ابن اللہ بناکر کوئی نئی بات نہیں نکالیؔ بلکہ پہلے بے ایمانوں اور مشرکوں کے قدم پر قدم مارا ہے۔ غرض حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہودیوں کی یہ حالت تھی کہ مخلوق پرستی بدرجہ غایت ان پرغالب آگئی تھی اور عقائد حقہ سے بہت دور جاپڑی تھی یہاں تک کہ بعض ان کے ہندوؤں کی طرح تناسخ کے بھی قائل تھے اور بعض جزا سزا کے قطعاً منکر تھے۔ اور بعض مجازات کو صرف دنیا میں محصور سمجھتے تھے اور قیامت کے قائل نہ تھے۔ اور بعض یونانیوں کے نقش قدم پر چل کر مادہ اور روحوں کو قدیم اور غیر مخلوق خیال کرتے تھے۔ اور بعض دہریوں کی طرح روح کو فانی سمجھتے تھے اور بعض کا فلسفیوں کی طرح یہ مذہب تھا کہ خدائے تعالیٰ رب العالمین اور مدبر بالارادہ نہیں ہے۔ غرض مجذوم کے بدن کی طرح تمام
اعلیٰ درجہ کا اثر پڑے اور تھوڑی عبارت میں وہ علوم الٰہیہ سما جائیں جن پر دنیا کی ابتدا سے کسی کتاب ؔ یا دفتر نے احاطہ نہیں کیا۔ یہی حقیقی فصاحت بلاغت ہے جو تکمیل نفس انسانی کے لئے ممد و معاون ہے جس کے ذریعہ سے حق کے طالب