انسان پیدا کیا گیا ہے۔ اس سعادت تک وہ پہنچ جائے۔ غرض خدا کے جتنے کام ہیں۔ وہ صرف موٹی صنعت پر ختم نہیںؔ ہوسکتے۔ بلکہ ان میں جس قدر کھودتے جاؤ۔ زیادہ سے زیادہ باریکیاں نکلتی ہیں۔ پس جبکہ ان تمام چیزوں کی نسبت جو خدا کی طرف سے ہیں۔ یہ عام قانون ثابت ہوچکا کہ وہ سب نکاتِ دقیقہ اور اسرارِ عمیقہ سے پُر نہ رہے۔ اور جو خدا کی صفات کاملہ تھی وہ سب ابن مریم پر تھاپ دی۔ اور ان کے مذہب کا خلاصہ یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ جمیع مافی العالم کا رب نہیں ہے بلکہ مسیح اس کی ربوبیت سے باہر ہے بلکہ مسیح آپ ہی رب ہے۔ اور جو کچھ عالم میں پیدا ہوا وہ بزعم باطل ان کے بطور قاعدہ کلیہ مخلوق اور حادث نہیں بلکہ ابن مریم عالم کے اندر حدوث پاکر اور صریح مخلوق ہوکر پھر غیر مخلوق اور خدا کے برابر بلکہ آپ ہی خدا ہے۔ اور اس کی عجیب ذات میں ایک ایسا اعجوبہ ہے کہ باوجود حادث ہونے کے قدیم ہے۔ اور باوجود اس کے کہ خود اپنے اقرار سے ایک واجب الوجود کے ماتحت اور اس کا محکوم ہے۔ مگر پھر بھی آپ ہی واجب الوجود اور آزاد مطلق اور کسی کا ماتحت نہیں۔ اور باوجود اس کے کہ خود اپنے تو پھر وہ خدا کا کلام ہی نہیں رہتا۔ اس لئے وہ خود اپنے تمام بیانات کو بہ پایۂ ثبوت پہنچاتا ہے۔ لیکن کوئی شاعر اس بات کا ذمہ وار نہیں ہوسکتا اور نہ کبھی ہوا کہ اس کا کلام ہریک قسم کے کذب اور ہزل اور غیر ضروری باتوں سے پاک اور ضروری اور لابدی امور پر احاطہ رکھتا ہے۔ پھر جبکہ شاعروں کی فضول باتوں کو وہ مراتب حاصل نہیں ہیں کہ جو خدائے تعالیٰ کے پاک کلام کو حاصل ہیں اور نہ اس بارے میں شاعر کچھ دم مارتے ہیں اور نہ ذمہ وار بنتے ہیں۔ بلکہ اپنے عجز کے آپ ہی اقراری ہیں۔ تو کلام الٰہی کے مقابلہؔ پر ان کا ناچیز کلام پیش کرنا کیسی سفاہت اور نادانی ہے۔ شاعر تو اگر مر بھی جاویں تو صداقت اور راستی و ضرورت حقہ کا اپنے کلام میں التزام