غرائب واضح ہوتے۔ تاکہ جس غرض کے لئے حکیم مطلق نے بدن انسان میں مودَّع کئے تھے وہ غرض حاصل ہوجاتی۔ سو اس وہم کا جواب اور اسی قسم کے اور وہموں کا جواب جو مصنوعات الٰہیہ کے عجائبات اور خواص دقیقہ اور مخفیہ کی نسبت کسی کے دل میں خلجان کریں۔ یہ ہے کہ بلاشبہ خدا کا اپنے تمام اور قرآن شریف کے پڑھنے سے معلوم ہوگا کہ ان صداقتوں کی تفصیل میں آیات قرآنی ایک دریا کی طرح بہتی ہوئی چلی جاتی ہیں۔ اور اگر ہم اس جگہ مفصل طور پر ان آیات کو لکھتے۔ تو بہت سے اجزاء کتاب کے اس میں خرچ ہوجاتے سو ہم نے اس نظر سے کہ انشاء اللہ عنقریب براہین قرآنی کے موقعہ پر وہ تمام آیات بہ تفصیل لکھے جائیں گے ان تمہیدی مباحث میں صرف سورۃ فاتحہ کے قل و دل کلمات پر کفایت کی۔ اب بعد اس کے ہم بیان کرنا چاہتے ہیں کہ یہ چاروں صداقتیں کہ جو بیّن الثبوت اور بدیہی الصدق ہیں۔ ایسے بے نظیر اور اعلیٰ درجہ کے ہیں کہ یہ بات دلائل قطعیہ سے ثابت ہے کہ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور فرمانے کے وقت یہ چاروں صداقتیں دنیا سے گم ہوچکی تھیں اور کوئی قوم پرد ۂزمین پر ایسی موجود نہیں تھی کہ جو بغیر آمیزش افراط یا تفریط کے ان صداقتوں کی پابند ہو۔ پھر جب قرآن شریف نازل ہوا۔ تو اس کلام مقدس نے نئے سرے ان گمشدہ صداقتوں کو زاویہ گمنامی سے باہر نکالا اور گمراہوں کو ان کے حقانی وجود سے اطلاع دی اور دنیا میں ان کو پھیلایا اور ایک عالم کو ان کے نورؔ سے منور کیا۔ لیکن اس بات کے ثبوت کے لئے کہ کیونکر تمام قومیں ان صداقتوں سے بے خبر اور ناواقف محض تھیں یہی ایک کافی دلیل ہے کہ اب بھی دنیا میں کوئی قوم بجز دین حق اسلام کی ٹھیک ٹھیک اور کامل طور پر یعنی قرآن حکمت سے پر ہے۔ باطل کو اس کے آگے پیچھے سے گزر نہیں۔ تو اس صورت میں وہ کیونکر آپ ہی باطل کو اس میں بھر دیتا۔ اس کام کے لئے تو فیضی جیسا ہی کوئی نادان فضول گو چاہئے۔