مصنوعاتؔ میں اور ہریک چیز میں جو اس کی طرف سے صادر ہو۔ قانون قدرت یہی ہے کہ اس نے عجائبات بدیہہ پر کفایت نہیں کی۔ بلکہ ہریک چیز میں(جو اس کے دست قدرت سے ظہور پذیر ہے) عجائبات دقیقہ بھی(جو نہایت گہرے اور عمیق ہیں) مخفی رکھے ہیں۔ مگر خدا کے اس کام کو عبث اور بے سود سمجھنا سراسر نادانی ہے۔ ان صداقتوں پر قائم نہیں اور جو شخص کسی ایسی قوم کے وجود کا دعویٰ کرے تو بار ثبوت اسی کے ذمہ ہے۔ ماسوا اس کے قرآنی شہادت کہ جو ہریک دوست و دشمن میں شائع ہونے کی وجہ سے ہریک مخاصم پر حجت ہے اس بات کے لئے ثبوت کافی ہے اور وہ شہادتیں جابجا فرقان مجید میں بکثرت موجود ہیں۔ اور خود کسی تاریخ دان اور واقف حقیقت کو اس سے بے خبری نہیں ہوگی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے وقت تک ہریک قوم کی ضلالت اور گمراہی کمال کے درجہ تک پہنچ چکی تھی اور کسی صداقت پر کامل طور پر ان کا قیام نہیں رہا تھا۔ چنانچہ اگر اول یہودیوں ہی کے حال پر نظر کریں تو ظاہر ہوگا کہ ان کو خدائے تعالیٰ کی ربوبیت تامہ میں بہت سے شک اور شبہات پیدا ہوگئے تھے اور انہوں نے ایک ذات رب العالمین پر کفایت نہ کرکے صدہا ارباب متفرقہ اپنے لئے بنارکھے تھے یعنی مخلوق پرستی اور دیوتا پرستی کا بغایت درجہ ان میں بازار گرم تھا۔ جیسا کہ خود اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ حال قرآن شریف میں بیان کرکے فرمایا ہے۔33۔ ۱؂ یعنی یہودیوں نے اپنے مولویوں اور درویشوں کو کہ جو مخلوق اور غیر خدا ہیں، اپنے رب اور قاضی الحاجات ٹھہرا رکھے ہیں۔ اور نیز اکثروں کا یہودیوں میں سے بعض نیچریوں کی طرح یہ اعتقاد ہوگیا تھا کہ انتظام دنیا کا قوانین منضبطہ متعینہ پر چل رہا ہے۔ خدا کے کلام کو اس طرح پر بے نقط سمجھنا چاہئے کہ وہ لغو اور جھوٹ اور بیہودہ گوئی کے نقطوں سے منزہ اور معرا ہے اور اس کی فصاحت بلاغت وہ بے بہا جوہر ہے جس سے دنیا کو فائدہ پہنچتا ہے۔ روحانی بیماروں سے