فکر اور نظر کی ورزش بکار ہے۔ اور پھر بھی یہ توقع نہیں کہ تمام اسرار حکمیہ باستیفاءِ تام حاصل ہوجائیں گے اور اسی دقّت کے باعث سے اب تک انسان کو گویا دریا میں سے ایک قطرہ بھی حاصل نہیںؔ ہوا۔ چاہئے تھا کہ سب عجائب اور اور دوری کے دلوں سے مشتعل ہوکر بدنوں پر مستولی ہوجائے اور تمام وجود فی النار والسقر معلوم ہو۔ اور یہ تجلیات عظمیٰ اس عالم میں ظاہر نہیں ہوسکتیں کیونکہ اس تنگ اور منقبض اور مکدر عالم کو جو روپوش اسباب ہوکر ایک ناقص حالت میں پڑا ہے۔ ان کے ظہور کی برداشت نہیں۔ بلکہ اس عالم پر ابتلاء اور آزمائش غالب ہے۔ اور اس کی راحت اور رنج دونوں ناپائیدار اور ناقص ہیں۔ اور نیز اس عالم میں جو کچھ انسان پر وارد ہوتا ہے وہ زیر پردہ اسباب ہے۔ جس سے مالک الجزاء کا چہرہ محجوب اور مکتوم ہورہا ہے۔ اس لئے یہ خالص اور کامل اور منکشف طور پر یوم الجزاء نہیں ہوسکتا بلکہ خالص اور کامل اور منکشف طور پر یوم الدین یعنی یوم الجزاء وہ عالم ہوگا کہ جو اس عالم کے ختم ہونے کے بعد آوے گا اور وہی عالم تجلیات کا عظمیٰ مظہر اور جلال اور جمال کے پوری ظہور کی جگہ ہے۔ اور چونکہ یہ عالم دنیوی اپنی اصل وضع کے رو سے دارالجزاء نہیں بلکہ دارالابتلاء ہے اس لئے جو کچھ عسر و یسرو راحت و تکلیف اور غم اور خوشی اس عالم میں لوگوں پر وارد ہوتی ہے اس کو خدائے تعالیٰ کے لطفؔ یا قہر پر دلالت قطعی نہیں مثلاً کسی کا دولتمند ہوجانا اس بات پر دلالت قطعی نہیں کرتا کہ خدائے تعالیٰ اس پر خوش ہے اور نہ کسی کا مفلس اور نادار ہونا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ خداتعالیٰ اس پر ناراض ہے بلکہ یہ دونوں طور کے ابتلاء ہیں تا دولتمند کو اس کی دولت میں اور مفلس کو اس کی مفلسی میں جانچا جائے۔ یہ چار صداقتیں ہیں جن کا قرآن شریف میں مفصل بیان موجود ہے۔ یعنی ایماندار وہ لوگ ہیں جو لغو کاموں سے پرہیز کرتے ہیں اور اپنا وقت بیہودہ کاموں میں نہیں کھوتے۔ تو پھر آپ ہی کیونکر بیہودہ کام کرتا جس حالت میں اپنی کتاب کی اس نے یہ تعریف کی ہے کہ اس کی شان میں ؔ فرمایا ہے