جس نے اس کی پیدائش میں ایسے عجائب غرائب کام کئے ہیں۔ لیکن اس جگہ کوئی بےؔ سمجھ آدمی یہ اعتراض کرسکتا ہے کہ خدا نے اس کام کو جس کی غرض معرفت الٰہی تھی۔ ایسا اَدَق اور باریک کیوں بنایا۔ جس کی سمجھ کے لئے ایک زمانہ دراز تک ہے۔ اس کا مالک بھی وہی اللہ قادر مطلق ہے اور وہ اس بات سے ہرگز عاجز نہیں کہ اپنی کامل جزاا کو جو دن کی طرح روشن ہے ظہور میں لاوے۔ اور اس صداقت عظمیٰ کے ظاہر کرنے سے حضرت احدیت کا یہ مطلب ہے کہ تاہریک نفس پر بطور حق الیقین امور مفصلہ ذیل کھل جائیں۔ اول یہ امر کہ جزاسزا ایک واقعی اور یقینی امر ہے کہ جو مالک حقیقی کی طرف سے اور اسی کے اراد ۂخاص سے بندوں پر وارد ہوتا ہے اور ایسا کھل جانا دنیا میں ممکن نہیں کیونکہ اس عالم میں یہ بات عام لوگوں پر ظاہر نہیں ہوتی کہ جو کچھ خیر و شر و راحت و رنج پہنچ رہا ہے وہ کیوں پہنچ رہا ہے اور کس کے حکم و اختیار سے پہنچ رہا ہے۔ اور کسی کو ان میں سے یہ آواز نہیں آتی کہ وہ اپنی جزا پارہا ہے۔ اور کسی پر بطور مشہود و محسوس منکشف نہیں ہوتا کہ جو کچھ وہ بھگت رہا ہے حقیقت میں وہؔ اس کے عملوں کا بدلہ ہے۔ دوسرے اس صداقت میں اس امر کا کھلنا مطلوب ہے کہ اسباب عادیہ کچھ چیز نہیں ہیں اور فاعل حقیقی خدا ہے اور وہی ایک ذات عظمیٰ ہے کہ جو جمیع فیوض کا مبدء اور ہریک جزا سزا کا مالک ہے۔ تیسرے اس صداقت میں اس بات کا ظاہر کرنا مطلوب ہے کہ سعادت عظمیٰ اور شقاوت عظمیٰ کیا چیز ہے یعنی سعادت عظمیٰ وہ فوز عظیم کی حالت ہے کہ جب نور اور سرور اور لذت اور راحت انسان کے تمام ظاہر و باطن اور تن اور جان پر محیط ہوجائے اور کوئی عضو اور قوت اس سے باہر نہ رہے۔ اور شقاوت عظمیٰ وہ عذاب الیم ہے کہ جو بباعث نافرمانی اور ناپاکی اور ُ بعد کی طرح بے نقط یا بانقط عبارت میں اپنا کلام نازل کرتا۔ کیونکہ یہ سب لغو حرکتیں ہیں۔ جن میں کچھ بھی فائدہ نہیں۔ اور حکیم مطلق کی شان اس سے بلند وبرتر ہے کہ کوئی لغو حرکتؔ اختیار کرے۔ جس صورت میں اس نے آپ ہی فرمایا ہے