ہیں۔ انہوں نے زمانہ دراز تک تدبّر اور تفکّر کرکے ان صداقتوںؔ کو دریافت کیا ہے۔ اور ابھی صدہا دقائق اور حقائق ترکیب انسان کے ایسے بھی مخفی ہیں جن پر کسی حکیم کا ذہن آج تک محیط نہیں ہوا۔ اورکچھ شک نہیں کہ ان دقائق اور حقائق سے اعلیٰ غرض یہ ہے کہ انسان اُس حکیم علی الاطلاق کی قدرت کاملہ کا اعتراف کرے صداقتوں میں یہ معنے بھی ملحوظ ہیں کہ رب العالمین وغیرہ صفتیں جو خدائے تعالیٰ میں پائی جاتی ہیں یہ اسی کی ذات واحد لاشریک سے خاص ہیں اور کوئی دوسرا ان میں شریک نہیں۔ جیسا کہ اس سورۃ کے پہلے فقرہ میں یعنی الحمدللہ میں یہ بیان ہوچکا ہے کہ تمام محامد خدا ہی سے خاص ہیں۔ دوسری صداقت رحمن ہے کہ جو بعد رب العالمین بیان فرمایا گیا۔ اور رحمن کے معنے جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کرچکے ہیں یہ ہیں کہ جس قدر جاندار ہیں خواہ ذی شعور اور خواہ غیر ذی شعور اور خواہ نیک اور خواہ بد۔ ان ؔ سب کے قیام اور بقاء وجود اور بقائے نوع کے لئے اور ان کی تکمیل کے لئے خدائے تعالیٰ نے اپنی رحمت عامہ کے رو سے ہریک قسم کے اسباب مطلوبہ میسر کردیئے ہیں اور ہمیشہ میسر کرتا رہتا ہے اور یہ عطیہ محض ہے کہ جو کسی عامل کے عمل پر موقوف نہیں تیسری صداقت رحیم ہے کہ جو بعد رحمن کے مذکور ہے۔ جس کے معنے یہ ہیں کہ خدائے تعالیٰ سعی کرنے والوں کی سعی پر بمقتضائے رحمت خاصہ ثمرات حسنہ مترتب کرتا ہے۔ توبہ کرنے والوں کے گناہ بخشتا ہے۔ مانگنے والوں کو دیتا ہے۔ کھٹکھٹانے والوں کے لئے کھولتا ہے۔ چوتھی صداقت جو سورۃ فاتحہ میں مندرج ہے۔ مالک یوم الدینہے یعنی باکمال و کامل جزا سزا کہ جو ہریک قسم کے امتحان و ابتلا اور توسط اسباب غفلت افترا سے منزہ ہے۔ اور ہریک کدورت اور کثافت اور شک اور شبہ اور نقصان سے پاک ہے۔ اور تجلیات عظمیٰ کا مظہر اختیار کرلیا۔ تو پھر ان کو قرآن شریف کی بلاغت سے کیا نسبت۔ اور اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے۔ کہ چونکہ قرآنی فصاحت بلاغتؔ فضول طریقوں سے بکلّی پاک اور منزہ ہے۔ پس اس صورت میں حکیم مطلق کی شان مقدس سے بالکل دور تھا کہ وہ فضول گو شاعروں