درکار ہے۔ مثلاً آنکھ کی وہ ترکیب جس کے ذریعہؔ سے دونوں آنکھیں شے واحد کی طرح بالاتفاق کام کرتی ہیں اور ہریک چھوٹی بڑی چیز کو دیکھ سکتے ہیں۔ یا کانوں کی بناوٹ کی وہ طرز جس سے وہ مختلف آوازوں کو بہ حیثیت اختلاف سن سکتے ہیں۔ یہ وہ امور ہیں جو سرسری نظر سے دریافت نہیں ہوسکتے۔ بلکہ جو لوگ ماہر فن طبعی و طبابت ہے۔ ایسا ہی مصنوعات صانع حقیقی سے بے علاقہ ہیں۔ بلکہ وہ رب العالمین اپنی ربوبیت تامہ کی آب پاشی ہر وقت برابر تمام عالم پر کررہا ہے۔ اور اس کی ربوبیت کا مینہ بالاتصالؔ تمام عالم پر نازل ہورہا ہے۔ اور کوئی ایسا وقت نہیں کہ اس کے رشح فیض سے خالی ہو بلکہ عالم کے بنانے کے بعد بھی اس مبدء فیوض کی فی الحقیقت بلا ایک ذرا تفاوت کے ایسی ہی حاجت ہے کہ گویا ابھی تک اس نے کچھ بھی نہیں بنایا اور جیسا دنیا اپنے وجود اور نمود کے لئے اس کی ربوبیت کی محتاج تھی ایسا ہی اپنے بقا اور قیام کے لئے اس کی ربوبیت کی حاجتمند ہے۔ وہی ہے جو ہر دم دنیا کو سنبھالے ہوئی ہے اور دنیا کا ہر ذرہ اسی سے تروتازہ ہے اور وہ اپنی مرضی اور ارادہ کے موافق ہرچیز کی ربوبیت کررہا ہے۔ یہ نہیں کہ بلا ارادہ کسی شے کے ربوبیت کا موجب ہو۔ غرض آیات قرآنی کی رو سے جن کا خلاصہ ہم بیان کررہے ہیں اس صداقت کا یہ منشا ہے کہ ہریک چیز کہ جو عالم میں پائی جاتی ہے وہ مخلوق ہے۔ اور اپنے تمام کمالات اور اپنے تمام حالات اور اپنے تمام اوقات میں خدائے تعالیٰ کی ربوبیت کی محتاج ہے۔ اور کوئی روحانی یا جسمانی ایسا کمال نہیں ہے جس کو کوئی مخلوق خودبخود اور بغیر ارادہ خاص اس متصرف مطلق کے حاصل کرسکتا ہو۔ اور نیز حسب توضیح اسی کلام پاک کے اس صداقت اور ایسا ہی دوسری ہیں۔ اور رعایت حق اور حکمت اور ضرورت وؔ مصلحت سے بکلّی عاری اور خالی ہیں۔ اور جب انہوں نے صداقت اور ضرورت حقہ کے التزام کو چھوڑ دیا۔ اور ہر ہر لفظ میں جھوٹ بولنا یا بیہودہ گوئی اختیار کرنا یا لغو اور غیر ضروری طور پر الفاظ کو مونہہ سے نکالنا