اصول ثابت ہوتاؔ ہے کہ جو عجائب اور غرائب اس نے اپنے مصنوعات میں رکھے ہیں وہ دو قسم کے ہیں۔ ایک تو عام فہم ہیں۔ مثلاً سارے لوگ جانتے ہیں کہ انسان کی دو آنکھ اور دو کان ایک ناک اور دو پاؤں وغیرہ اعضاء ہیں۔ یہ تو وہ امور ہیں کہ جو نظر سرسری سے معلوم ہوتے ہیں۔ دوسرے وہ امور ہیں جن میں دقتِ نظر
میں انہیں اندھوں کا کام ہے جن کی بصیرت اور بصارت دونوں یکبارگی جاتی رہی ہیں۔
چشم بد اندیش کہ برکندہ باد
عیب نماید ہنرش در نظر
اب ہم پھر تقریر کو دوہرا کر اس بات کا ذکر کرتے ہیں کہ جو کچھ خدائے تعالیٰ نے سورۃ ممدوحہ میں رب العالمین کی صفت سے لے کر مالک یوم الدین تک بیان فرمایا ہے یہ حسب تصریحاتِ قرآن شریف چار عالیشان صداقتیں ہیں جن کا اس جگہ کھول کر بیان کرنا قرین مصلحت ہے۔ پہلی صداقت یہ کہ خدائے تعالیٰ رب العالمین ہے یعنی عالم کے اشیا میں سے جو کچھ موجود ہے سب کا رب اور مالک خدا ہے۔ اور جو کچھ عالم میں نمودار ہوچکا ہے اور دیکھا جاتا ہے یا ٹٹولا جاتا ہے یا عقل اس پر محیط ہوسکتی ہے وہ سب چیزیں مخلوق ہی ہیں اور ہستی حقیقی بجز ایک ذات حضرت باری تعالیٰ کے اور کسی چیز کے لئے حاصل نہیں۔ غرض عال بجمیع اجزا ۂٖمخلوق اور خدا کی پیدائش ہے اور کوئی چیز اجزائے عالم میں سے ایسی نہیں کہ جو خدا کی پیدائش نہ ہو۔ اور خدائے تعالیٰ اپنی ربوبیت تامہ کے ساتھ عالم کے ذرہ ذرہ پر متصرف اور حکمران ہے اور اس کی ربوبیت ہر وقت کام میں لگی ہوئی ہے۔ یہ نہیں کہ خدائے تعالیٰ دنیا کو بناکر اس کے انتظام سے الگ ہو بیٹھا ہے اور اسے نیچر کے قاعدہ کے ایسا سپرد کیا ہے کہ خود کسی کام میں دخل بھی نہیں دیتا۔ اور جیسے کوئیَ کل بعد بنائے جانے کے پھر بنانے والے سے بے علاقہ ہوجاتی
نساؔ نوں کی کتابوں کو دیکھنا چاہیے کہ کیونکر وہ جھوٹ اور ہزل اور بیہودگی سے بھری ہوئی ہیں اور کیونکر غیر ضروری اور فضول طور پر ان کی عبارتیں لکھی گئی ہیں۔ اور ان کو ہرگز میسر نہیں آیا کہ الفاظ کو معانی مقصودہ کے تابع کریں بلکہ ان کے معانی الفاظ کے پیچھے بہکتے پھرتے