خداوند تعالیٰ کی زیادتِ قدرت ثابت ہوتی ہے۔ اور عاجز بندوں کا مختلف زبانوں میں اس کی تعریف کرنا عبودیت کے بازار کی ایک رونق ہے۔ تمہید چہارم:۔ خداوند تعالیٰ کے تمام مصنوعات پر نظر کرنے سے یہ ذات کامل کے صاف اور آشکارا طور پر نازل ہوں گے۔ اور جن کو ایمان اور محبت الٰہیہ حاصل نہیں ہوئی وہ اس لذت اور راحت سے محروم رہیں گے اور عذاب الیم میں مبتلا ہوجائیں گے یہ فیوض اربعہ ہیں جن کو ہم نے تفصیل وار لکھ دیا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ صفت رحمان کو صفت رحیم پر مقدم رکھنا نہایت ضروری اور مقتضائے بلاغت کاملہ ہے کیونکہ صحیف ۂ قدرت پر جب نظر ڈالی جائے تو پہلے پہل خدائے تعالیٰ کی عام ربوبیت پر نظر پڑتی ہے۔ پھر اس کی رحمانیت پر۔ پھر اس کی رحیمیت پر۔ پھر اس کے مالک یوم الدین ہونے پر اور کمال بلاغت اسی کا نام ہے کہ جو صحیفہ فطرت میں ترتیب ہو وہی ترتیب صحیفۂ الہام میں بھی ملحوظ رہے۔ کیونکہ کلام میں ترتیب قدرتی کا منقلب کرنا گویا قانون قدرت کو منقلب کرنا ہے اور نظام طبعی کو الٹا دینا ہی کلام بلیغ کے لئے یہ نہایت ضروری ہے کہ نظام کلام کا نظام طبعی کے ایسا مطابق ہو کہ گویا اسی کی عکسی تصویر ہو۔ اور جو امر طبعاً اور وقوعاً مقدم ہو اس کو وضعاً بھی مقدم رکھا جائے۔ سو آیت موصوفہ میں یہ اعلیٰ درجہ کی بلاغت ہے کہ باوجود کمال فصاحت اور خوش بیانی کے واقعی ترتیب کا نقشہ کھینچ کر دکھلا دیا ہے اور وہی طرز بیان اختیار کی ہے جو کہ ہریک صاحب نظر کو نظام عالم میں بدیہی طور پر نظر آرہی ہے۔ کیا یہ نہایت سیدھا راستہ نہیں ہے کہ جس ترتیب سے نعماء الٰہی صحیفہ فطرت میںؔ واقعہ ہیں اسی ترتیب سے صحیفۂ الہام میں بھی واقعہ ہوں۔ سو ایسی عمدہ اور ُ پرحکمت ترتیب پر اعتراض کرنا حقیقت ایک چھوٹی سی کتاب میں بھردیا تاکہ انسان جس کی عمر تھوڑی اور کام بہت ہیں بے شمار درد سر سے چھوٹ جائے۔ اور تا اسلام کو اس بلاغت سے اشاعت مسائل میں مدد پہنچے۔ اور حفظ کرنا اور یاد رکھنا آسان ہو۔ اب بمقابلہ اس فصاحت و بلاغت کے