پس کیونکر ممکن تھا کہ حکیم مطلق صرف ایک ہی بولی سے پیار کرکے قاعدہ وضع الشیء فی موضعہ کی رعایت نہ کرتا اور طبائع مختلفہ کے لئے جو مصلحت عامہ تھی، اس کو ترک کردیتا۔ کیا مناسب تھا کہ وہ جُدا جُدا طبیعتوں کے لوگوں کو ایک ہیؔ بولی کے تنگ پنجرہ میں قید کردیتا۔ علاوہ اس کے انواع و اقسام کی بولیوں کے بنانے میں ظہور میں نہیں آسکتی۔ چنانچہ اسی کی طرف دوسری جگہ بھی اشارہ فرما کر کہا ہے یعنی اس دن ربوبیت الٰہیہ بغیر توسط اسباب عادیہ کے اپنی تجلی آپ دکھائے گی۔ اور یہی مشہود اور محسوس ہوگا کہ بجز قوت عظمیٰ اور قدرت کاملہ حضرت باری تعالیٰ کے اور سب ہیچ ہیں۔ تب سارا آرام و سرور اور سب جزا اور پاداش بنظر صاف و صریح خدا ہی کی طرف سے دکھلائی دے گا اور کوئی پردہ اور حجاب درمیان نہیں رہے گا اور کسی قسم کے شک کی گنجائش نہیں رہے گی تب جنہوں نے اس کے لئے اپنے تئیں منقطع کرلیا تھا وہ اپنے تئیں ایک کامل سعادت میں دیکھیں گے کہ جو ان کے جسم اور جان اور ظاہر اور باطن پر محیط ہوجائے گی اور کوئی حصہ وجود ان کے کا ایسا نہیں ہوگا کہ جو اس سعادت عظمیٰ کے پانے سے بے نصیب رہا ہو۔ اور اس جگہ مالک یوم الدین کے لفظ میں یہ بھی اشارہ ہے کہ اس روز راحت یا عذاب اورؔ لذت یا درد جو کچھ بنی آدم کو پہنچے گا اس کا اصل موجب خدائے تعالیٰ کی ذات ہوگی اور مالک امر مجازات کا حقیقی طور پر وہی ہوگا یعنی اس کا وصل یا فصل سعادت ابدی یا شقاوت ابدی کا موجب ٹھہرے گا۔ اس طرح پر کہ جو لوگ اس کی ذات پر ایمان لائے تھے اور توحید اختیار کی تھی۔ اور اس کی خالص محبت سے اپنے دلوں کو رنگین کرلیا تھا ان پر انوار رحمت اس اور کوئی لفظ نہیں کہ لغو طور پر تحریر پایا ہو۔ اور پھر باوصف التزام ان سب امور کے فصاحت کا وہ مرتبہ کامل دکھلایا جس سے زیادہ تر متصور نہیں۔ اور بلاغت کو اس کمال تکؔ پہنچایا کہ کمال حسن ترتیب اور موجز اور مدلل بیان سے علم اولین اور آخرین ایک