کےؔ پرمیشر سے بھی کچھ بڑھ کر تھے جن کی قدرت کاملہ نے صدہا عمدہ زبانیں بناکر دکھلادیں اور پرمیشر صرف ایک ہی بولی بناکر رہ گیا۔ جن لوگوں کی تار وپود میں شرک گھسا ہوا ہے انہوں نے اپنے پرمیشر کو بہت سی باتوں میں ایک برابر درجہ کا شخص
خدا کے لئے وطنوں سے یا نفس پرستیوں سے جدائی اختیار کی اور خدا کی راہ میں کوشش کی، وہ خدا کی رحیمیت کے امیدوار ہیں اور خدا غفور اور رحیم ہے یعنی اس کا فیضان رحیمیت ضرور ان لوگوں کے شامل حال ہوجاتا ہے کہؔ جو اس کے مستحق ہیں۔ کوئی ایسا نہیں جس نے اس کو طلب کیا اور نہ پایا۔
عاشق کہ شد کہ یار بحالش نظر نہ کرد
اے خواجہ درد نیست وگرنہ طبیب ہست
چوتھا قسم فیضان کا فیضان اخص ہے۔ یہ وہ فیضان ہے کہ جو صرف محنت اور سعی پر مترتب نہیں ہوسکتا بلکہ اس کے ظہور اور بروز کے لئے اول شرط یہ ہے کہ یہ عالم اسباب کہ جو ایک تنگ و تاریک جگہ ہے۔ بکلی معدوم اور منعدم ہوجائے اور قدرت کاملہ حضرت احدیت کے بغیر آمیزش اسباب معتادہ کے برہنہ طور پر اپنا کامل چمکارا دکھلاوے کیونکہ اس آخری فیضان میں کہ جو تمام فیوض کا خاتمہ ہے جو کچھ پہلے فیضانوں کی نسبت عندالعقل زیادتی اور کمالیت متصور ہوسکتی ہے وہ یہی ہے کہ یہ فیضان نہایت منکشف اور صاف طور پر ہو اور کوئی اشتباہ اور خفا اور نقص باقی نہ رہے۔ یعنی نہ مفیض کے بالارادہ فیضان میں کوئی شبہ رہ جائے۔ اور نہ فیضان کے حقیقی فیضان اور رحمت خالصہ اور کاملہ ہونے میں کچھ جائے کلام ہو بلکہ جس مالک قدیم کی طرف سے فیض ہوا ہے اس کی فیاضی اور جزا دہی روز روشن کی طرح کھل جائے اور شخص فیض یاب کو بطور حق الیقین یہ امر مشہود اور محسوس ہو کہ حقیقت میں وہ مالک المک ہی اپنے ارادہ اور توجہ اور قدرت خاص سے ایک نعمت عظمیٰ اور لذت کبریٰ اس کو عطا کررہا ہے اور حقیقت میں اس کو اپنے اعمال صالحہ کی
التزامؔ سے ادا کیا ہے اور کمال ایجاز سے تمام دینی صداقتوں پر احاطہ کرکے دکھایا ہے۔ چنانچہ اس میں ہریک مخالف اور منکر کے ساکت کرنے کے لئے براہین ساطعہ بھری پڑی ہیں۔ اور مومنین کی تکمیل یقین کے لئے ہزارہا دقائق حقائق کا ایک دریائے عمیق و