سمجھ رکھا ہے۔ کیوںؔ نہ ہو۔ انادی جو ہوئے۔ خدا کے شریک جو ٹھہرے۔ اور اگر کسی کے دل میں یہ وہم پیدا ہو کہ خدا نے ایک بولی پر کفایت کیوں نہ کی۔ یہ وہم بھی قلت تدبر سے ناشی ہے۔ اگر کوئی دانا اقالیم مختلفہ کے اوضاع متفاوتہ اور طبائع متفرقہ پر نظر
ایک کامل اور دائمی جزا کہ جو نہایت اصفیٰ اور نہایت اعلیٰ اور نہایت مرغوب اور نہایت محبوب ہے مل رہی ہے۔ کسی قسم کا امتحان اور ابتلا نہیں ہے۔ اور ایسے فیضان اکمل اور اتم اور ا بقٰی اور اعلیٰ اور اجلیٰ سے متمتع ہونا اس بات پر موقوف ہے کہ بندہ اس عالم ناقص اور مکدر اور کثیف اور تنگ اور منقبض اور ناپائیدار مشتبہ الحال سے دوسرے عالم کی طرف انتقال کرےؔ ۔ کیونکہ یہ فیضان تجلیات عظمیٰ کا مظہر ہے جن میں شرط ہے کہ محسن حقیقی کا جمال بطور عریاں اور بمرتبہ حق الیقین مشہود ہو۔ اور کوئی مرتبہ شہود اور ظہور اور یقین کا باقی نہ رہ جائے۔ اور کوئی پردہ اسباب معتادہ کا درمیان نہ ہو۔ اور ہریک دقیقہ معرفت تامہ کا مکمن قوت سے حیّز فعل میں آجائے۔ اور نیز فیضان بھی ایسا منکشف اور معلوم الحقیقت ہو کہ اس کی نسبت آپ خدا نے یہ ظاہر کردیا ہو کہ وہ ہریک امتحان اور ابتلاء کی کدورت سے پاک ہے اور نیز اس فیضان میں وہ اعلیٰ اور اکمل درجہ کی لذتیں ہوں جن کی پاک اور کامل کیفیت انسان کے دل اور روح اور ظاہر اور باطن اور جسم اور جان اور ہریک روحانی اور بدنی قوت پر ایسا اکمل اور ا بقٰی احاطہ رکھتی ہو کہ جس پر عقلاً اور خیالاً اور وہماً زیادت متصور نہ ہو۔ اور یہ عالم کہ جو ناقص الحقیقت اور مکدّر الصورت اور ہالکۃ الذات اور مشتبہ الکیفیت اور ضیق الظرف ہے۔ ان تجلیات عظمیٰ اور انوار اصفیٰ اور عطیّات دائمی کی برداشت نہیں کرسکتا۔ اور وہ اشعہ تامہ کاملہ دائمہ اس میں سما نہیں سکتے بلکہ اس کے ظہور کے لئے ایک دوسرا عالم درکار ہے کہ جو اسباب معتادہ کی ظلمت سے بکلی پاک اور منزہ اور ذات واحد قہار کی
شفاف اس میں بہتا ہوا نظر آرہا ہے۔ جن امور میں فساد دیکھاؔ ہے انہیں کی اصلاح کے لئے زور مارا ہے۔ جس شدت سے کسی افراط یا تفریط کا غلبہ پایا ہے اسی شدت سے اس کی مدافعت بھی کی ہے۔ جن انواع اقسام کی بیماریاں پھیلی ہوئی دیکھی ہیں ان سب کا