ہندوؤں کے باپ دادوں پر نازل ہوا ہے۔ اور دوسری زبانیں دوسرے لوگوں کے باپ دادوں نے بو جہ اس کے کہ وہ ہندوؤں کے باپ دادوں سے زیادہ زیرک اور دانا تھے، آپ بنالی ہیں۔ مگر کیا ہم یہ بھی فرض کرسکتے ہیں کہ وہ لوگ ہندوؤں
ہوجاتے ہیں ایک خاص رحمت ان کے شامل حال ہوجاتی ہے۔ اس فیضان کے رو سے خدائے تعالیٰ کا نام قرآن شریف میں رحیم ہے اور یہ مرتبہ صفت رحیمیت کا بوجہ خاص ہونے اور مشروط بہ شرائط ہونے کے مرتبہ صفت رحمانیت سے موخر ہے کیونکہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے اول صفت رحمانیت ظہور میں آئی ہے۔ پھر بعد اس کے صفت رحیمیت ظہور پذیر ہوئی پس اسی ترتیب طبعی کے لحاظ سے سورۃ فاتحہ میں صفت رحیمیت کو صفت رحمانیت کے بعد میں ذکر فرمایا اور کہا الرحمن الرحیم اور صفت رحیمیت کے بیان میں کئی مقامات پر قرآن شریف میں ذکر موجود ہے۔ جیسا ایک جگہ فرمایا ہے 3۔ ۱ یعنی خدا کی رحیمیت صرف ایمانداروں سے خاص ہے جس سے کافر کو یعنی بے ایمان اورر سرکش کو حصہ نہیں۔
اس جگہ دیکھنا چاہئے کہ خدا نے کیسی صفت رحیمیت کو مومن کے ساتھ خاص کردیا لیکن رحمانیت کو کسی جگہ مومنین کے ساتھ خاص نہیں کیا اور کسی جگہ یہ نہیں فرمایا کہ کان بالمؤمنین رحمانًا بلکہ جو مومنین سے رحمت خلق متعلق ہے ہر جگہ اس کو رحیمیت کی صفت سے ذکر کیا ہے۔ پھر دوسری جگہ فرمایا ہے۔ 3۔ ۲ یعنی رحیمیت الٰہی انہیں لوگوں سے قریب ہے جو نیکو کار ہیں پھر ایک اور جگہ فرمایا ہے۔33۔ ۳ یعنی جو لوگ ایمان لائے اور
اور بلاغت کو حریری اور فیضی وغیرہ انشاء پردازوں کی طرح فضول بیان کے پیرایہ میں ادا نہیں کیا اور نہ کسی قسم کے لغو اور ہزل یا کذب کو اس پاک کلام میں دخل ہے بلکہ فرقان مجید نے اپنی فصاحت اور بلاغت کو صداقت اور حکمت اور ضرورت حقہ کے