رکھنے سے خدا کی طرف سے کوئی الہام نہیں پاتا۔ تو یہ خدا کے صفات کی ایک غلط فہمی ہے۔ کیونکہ القاؔ اور الہام ایسا امر نہیں ہے کہ جو ہرجگہ بے جا بلالحاظ سچائی کثرت تجارب سے ہریک طالب صادق پر روشن ہے اور کیونکر روشن نہ ہو۔ ہر عاقل سمجھ سکتا ہے کہ ہم لوگ کس حالت ضعف اور ناتوانی میں پڑے ہوئے ہیں اور بغیر خدا کی مددوں کے کیسے نکمے اور ناکارہ ہیں۔ اگر ایک ذات متصرف مطلق ہر لحظہ اور ہر دم ہماری خبر گیران نہ ہو۔ اور پھر اس کی رحمانیت اور رحیمیت ہماری کارسازی نہ کرے تو ہمارے سارے کام تباہ ہوجائیں۔ بلکہ ہم آپ ہی فنا کا راستہ لیں۔ پس اپنے کاموں کو خصوصاً آسمانی کتاب کو کہ جو سب امور عظیمہ سے اَدق اور اَلطف ہے۔ خداوند قادر مطلق کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے۔ بہ نیت تبرک و استمداد شروع کرنا ایک ایسی بدیہی صداقت ہے کہ بلااختیار ہم اس کی طرف کھینچے جاتے ہیں۔ کیوں کہ فی الحقیقت ہریک برکت اسی راہ سے آتی ہے کہ وہ ذات جو متصرف مطلق اور علّت العلل اور تمام فیوض کا مبدء ہے جس کا نام قرآن شریف کی اصطلاح میں اللہ ہے خود متوجہ ہوکر اول اپنی صفت رحمانیت کو ظاہر کرے اور جو کچھ قبل از سعی درکار ہے اس کو محض اپنے تفضل اور احسان سے بغیر توسط عمل کے ظہور میں لاوے۔ پھر جب وہ صفت رحمانیت کی اپنے کام کو بہ تمام و کمال کرچکے اور انسان توفیق پاکر اپنی قوتوں کے ذریعہ سے محنت اور کوشش کا حق بجالاوے۔ تو پھر دوسرا کام اللہ تعالیٰ کا یہ ہے کہ اپنی صفت رحیمیت کو ظاہر کرے اور جو کچھ بندہ نے محنت اور کوشش کی ہے اس پر نیک ثمرہ مترتب کرے اور اس کی محنتوں کو ضائعؔ ہونے سے بچا کر گوہر مراد عطا فرماوے اسی صفت ثانی کی رو سے کہا گیا ہے کہ جو ڈھونڈتا ہے پاتا ہے۔ جو مانگتا ہے اس کو دیا جاتا تعلیم نہ تھی کہ جو ہمیشہ کے لئے قائم رہ سکتی۔ کیونکہ حقیقی مرکز پر اس کی بنیاد نہ تھی بلکہ اس قانون کی طرح جو مختص المقام ہوتا ہے صرف سرکش یہودیوں کی اصلاح کے لئے ایک خاص مصلحت تھی اور صرف چند روزہ انتظام تھا۔ اورؔ مسیح کو خوب معلوم تھا کہ خدا جلد تر اس عارضی