ماد ۂقابلہ کے ہوجایا کرے۔ بلکہ القا اور الہام کے لئے مادۂ قابلہ کا ہونا نہایت ضروری شرط ہے اور دوسری شرط یہؔ بھی ہے کہ اس الہام کے لئے ضرورت ہے جو کھٹکھٹا تاہے اس کے واسطے کھولا جاتا ہے یعنی خدائے تعالیٰ اپنی صفتِ رحیمیت سے کسی کی محنت اور کوشش کو ضائع ہونے نہیں دیتا اور آخر جوئندہ یا بندہ ہوجاتا ہے۔ غرض یہ صداقتیں ایسی بیّن الظہور ہیں کہ ہریک شخص خود تجربہ کرکے ان کی سچائی کو شناخت کرسکتا ہے اور کوئی انسان ایسا نہیں کہ بشرط کسی قدر عقلمندی کے یہ بدیہی صداقتیں اس پر چھپی رہیں۔ ہاں یہ بات ان عام لوگوں پر نہیں کھلتی کہ جو دلوں کی سختی اور غفلت کی وجہ سے صرف اسبابِ معتادہ پر ان کی نظر ٹھہری رہتی ہے اور جو ذات متصرف فی الاسباب ہے اس کے تصرفات لطیفہ پر ان کو علم حاصل نہیں ہوتا اور نہ ان کی عقل اس قدر وسیع ہوتی ہے کہ جو اس بات کو سوچ لیں کہ ہزارہا بلکہ بے شمار ایسے اسباب سماوی و ارضی انسان کے ہریک جسم کی آرائش کے لئے درکار ہیں جن کا بہم پہنچنا ہرگز انسان کے اختیار اور قدرت میں نہیں بلکہ ایک ہی ذات مستجمع صفات کاملہ ہے کہ جو تمام اسباب کو آسمانوں کے اوپر سے زمینوں کے نیچے تک پیدا کرتا ہے اور ان پر بہرطور تصرف اور قدرت رکھتا ہے مگر جو لوگ عقلمند ہیں وہ اس بات کو بلاتردّد بلکہ بدیہی طور پر سمجھتے ہیں اور جو ان سے بھی اعلیٰ اور صاحب تجربہ ہیں وہ اس مسئلہ میں حق الیقین کے مرتبہ تک پہنچے ہوئے ہیں لیکن یہ شبہ کرنا کہ یہ استعانت بعض اوقات کیوں بے فائدہ اور غیر مفید ہوتی ہے اور کیوں خدا کی رحمانیت و رحیمیت ہریک وقت استعانت میں تجلی نہیں فرماتی۔ پس یہ ُ شبہ صرف ایک صداقت کی غلط فہمی ہے کیونکہ خدائے تعالیٰ ان دعاؤں کو کہ جو خلوص کے ساتھ کی جائیں ضرور سنتا ہے اور جس طرح مناسب ہو مدد چاہنے والوں کے لئے مدد بھی کرتا ہے مگر کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان کی اِستمداد اور دعا میں خلوص نہیں ہوتا نہ انسان تعلیم کو نیست و نابود کرکے اس کامل کتاب کو دنیا کی تعلیم کے لئے بھیجے گا کہ جو حقیقی نیکی کی طرف تمام دنیا کو بلائے گی اور بندگان خدا پر حق اور حکمت کا دروازہ کھول دے گی۔ اس لئے کہ اس کو کہنا پڑا کہ ابھی بہت سی باتیں قابل تعلیم باقی ہیں جن کی تم ہنوز برداشت