جنگلی آدمیوں کو جو بے زبانی کی حالت میں محض اشارات سے گزارہ کرتے ہیں کیوں بذریعہؔ الہام کے کسی بولی سے مطلع نہیں کیا جاتا اور کیوں کوئی بچۂ نوزاد جنگل میں لاؤ تو ظاہر ہوگا کہ کامل طور پر کوئی بھی طاقت ہم کو حاصل نہیں۔ مثلاً ہماری بدنی طاقتیں ہماری تندرستی پر موقوف ہیں اور ہماری تندرستی بہت سے ایسے اسباب پر موقوف ہے کہ کچھ ان میں سے سماوی اور کچھ ارضی ہیں اور وہ سب کی سب ہماری طاقت سے بالکل باہر ہیں اور یہ تو ہم نے ایک موٹی سی بات عام لوگوں کی سمجھ کے موافق کہی ہے لیکن جس قدر درحقیقت وہ قیوم عالم اپنی علت العلل ہونے کی وجہ سے ہمارے ظاہر اور ہمارے باطن اور ہمارے اول اور ہمارے آخر اور ہمارے فَوق اور ہمارے تحت اور ہمارے یمین اور ہمارے یسار اور ہمارے دل اور ہماری جان اور ہمارے روح کی تمام طاقتوں پر احاطہ کررہا ہے وہ ایک ایسا مسئلہ دقیق ہے جس کے کنہ تک عقول بشریہ پہنچ ہی نہیں سکتیں۔ اور اس کے سمجھانے کی اس جگہ ضرورت بھی نہیں۔ کیونکہ جس قدر ہم نے اوپر لکھا ہے وہی مخالف کے الزام اور افہام کے لئے کافی ہے۔ غرض قیومِ عالم کے فیوض حاصل کرنے کا یہی طریق ہے کہ اپنی ساری قوت اور زور اور طاقت سے اپنا بچاؤ طلب کیا جائے اورؔ یہ طریق کچھ نیا طریق نہیں ہے بلکہ یہ وہی طریق ہے جو قدیم سے بنی آدم کی فطرت کے ساتھ لگا چلا آتا ہے۔ جو شخص عبودیت کے طریقہ پر چلنا چاہتا ہے وہ اسی طریق کو اختیار کرتا ہے اور جو شخص خدا کے فیوض کا طالب ہے وہ اسی راستے پر قدم مارتا ہے۔ اور جو شخص مورد رحمت ہونا چاہتا ہے وہ انہیں قوانین قدیمہ کی تعمیل کرتا ہے۔ یہ قوانین کچھ نئے نہیں ہیں۔ یہ عیسائیوں کے خدا کی طرح کچھ مستحدث بات نہیں۔ بلکہ خدا کا یہ ایک قانون محکم ہے کہ جو قدیم سے بندھا ہوا چلا آتا ہے۔ اور سنت اللہ ہے کہ جو ہمیشہ سے جاری ہے جس کی بہت کم ہوگیا تھا اور بے رحمی اور بے مروّتی اور سنگدلی اور قساوتِ قلبی اور کینہ کشی حد سے زیادہ بڑھ گئی تھی اور خدا کو منظور تھا کہ جیسا وہ لوگ مبالغہ سے کینہ کشی کی طرف مائلؔ تھے۔ ایسا ہی بمبالغۂ تمام رحم اور درگزر کی طرف مائل کیا جاوے لیکن یہ رحم اور درگذر کی تعلیم ایسی