کیاؔ یہاں تک کہ انسان اس کی کم التفاتی کی و جہ سے مدّت دراز تک حیوانوں اور وحشیوں کی طرح اپنی زندگی کو بسر کرتا رہا اور پھر آخرکار اس کو آپ ہی سوجھی کہ
پس صادق آدمی جس کے روح میں کسی قسم کے غرور اور ُ عجب نے جگہ نہیں پکڑی اور جو اپنے کمزور اور ہیچ اور بے حقیقت وجود پر خوب واقف ہے اور اپنے تئیں کسی کام کے انجام دینے کے لائق نہیں پاتا اور اپنے نفس میں کچھ قوت اور طاقت نہیں دیکھتا جب کسی کام کو شروع کرتا ہے تو ِ بلا تصنع اس کی کمزور روح آسمانی قوت کی خواستگار ہوتی ہے اور ہروقت اس کو خدا کی مقتدر ہستی اپنے سارے کمال و جلال کے ساتھ نظر آتی ہے اور اس کی رحمانیت اور رحیمیت ہریک کام کے انجام کے لئے مدار دکھلائی دیتی ہے۔ پس وہ بلاساختہ اپنا ناقص اور ناکارہ زور ظاہر کرنے سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم کی دعا سے امداد الٰہی چاہتا ہے پس اس انکسار اور فروتنی کی وجہ سے اس لائق ہوجاتا ہے کہ خدا کی قوت سے قوت اور خدا کی طاقت سے طاقت اور خدا کے علم سے علم پاوے اور اپنی مرادات میں کامیابی حاصل کرے۔ اس بات کے ثبوت کے واسطے کسی منطق یا فلسفہ کے دلائل ُ پراز تکلف درکار نہیں ہیں بلکہ ہریک انسان کے روح میں اس کے سمجھنے کی استعداد موجود ہے اور عارف صادق کے اپنے ذاتی تجارب اس کی صحت پر بہ تواتر شہادت دیتے ہیں بندہ ؔ کا خدا سے امداد چاہنا کوئی ایسا امر نہیں ہے جو صرف بیہودہ اور بناوٹ ہو یا جو صرف بے اصل خیالات پر مبنی ہو اور کوئی معقول نتیجہ اس پر مترتب نہ ہو بلکہ خداوند کریم کہ جو فی الحقیقت قیوم عالم ہے اور جس کے سہارے پر سچ مچ اس عالم کی کشتی چل رہی ہے اس کی عادت قدیمہ کے رو سے
بدی کی عادت پکتی جاتی ہے اور شرارت کا ملکہ راسخ ہوتا جاتا ہے ایک چور کو سزا کے بغیر چھوڑ دو پھر دیکھو کہ دوسری مرتبہ کیا رنگ دکھاتا ہے۔ اسی جہت سے خدائے تعالیٰ نے اپنی اس کتاب میں جوؔ حکمت سے بھری ہوئی ہے فرمایا