کوئی بولی ایجاد کرنیؔ چاہئے۔ یہ خیال ایسا بدیہی البطلان ہے کہ خدا کی وہ کامل قدرتیں اور کامل رحم اور کامل تربیت کہ جو ہریک زمانہ میں مشہود چلی آئی ہے یہ صداقت قدیم سے چلی آتی ہے کہ جو لوگ اپنے تئیں حقیر اور ذلیل سمجھ کر اپنے کاموں میں اس کا سہارا طلب کرتے ہیں اور اس کے نام سے اپنے کاموں کو شروع کرتے ہیں تو وہ ان کو اپنا سہارا دیتا ہے۔ جب وہ ٹھیک ٹھیک اپنی عاجزی اور عبودیت سے روبخدا ہوجاتے ہیں تو اس کی تائیدیں ان کے شامل حال ہوجاتی ہیں۔ غرض ہریک شاندار کام کے شروع میں اس مبدء فیوض کے نام سے مدد چاہنا کہ جو رحمان و رحیم ہے۔ ایک نہایت ادب اور عبودیت اور نیستی اور فقر کا طریقہ ہے۔ اور ایسا ضروری طریقہ ہے کہ جس سے توحید فی الاعمال کا پہلا زینہ شروع ہوتا ہے جس کے التزام سے انسان بچوں کی سی عاجزی اختیار کرکے ان نخوتوں سے پاک ہوجاتا ہے کہ جو دنیا کے مغرور دانشمندوں کے دلوں میں بھری ہوتی ہیں اور پھر اپنی کمزوری اور امداد الٰہی پر یقین کامل کرکے اس معرفت سے حصہ پالیتا ہے کہ جو خاص اہل اللہ کو دی جاتی ہے اور بلاشبہ جس قدر انسان اس طریقہ کو لازم پکڑتا ہے جس قدر اس پر عمل کرنا اپنا فرض ٹھہرالیتا ہے۔ جس قدر اس کے چھوڑنے میں اپنی ہلاکت دیکھتا ہے اسی قدر اس کی توحید صاف ہوتی ہے اور اسی قدر عُجب اور خودبینی کی آلائشوں سے پاک ہوتا جاتا ہے اور اسی قدر تکلف اور بناوٹ کی سیاہی اس کے چہرہ پر سے اٹھ جاتی ہے اور سادگی اور بھولا پن کا ُ نور اس کے مونہہ پر چمکنے لگتا ہے پس یہ وہ صداقت ہے کہ جو رفتہ رفتہ انسان کو فنا فی اللہ کے مرتبہ تک پہنچاتی ہے۔ یہاں تک یعنے اے دانشمندو۔ قاتل کے قتل کرنے اور موذی کی اسی قدر ایذا دینے میں تمہاری زندگی ہے۔ جس نے ایک انسان کو ناحق