انسان کو بے زبانی کی حالت میں دیکھ کر پھر اس کو زبان سکھلانے سے دریغ
رحمانیت سے حاصل ہوتے ہیں۔ اور صفت رحیمیت سے برکت طلب کرنا اس غرض سے ہے کہ تا وہ ذات کامل اپنی رحیمیت کی وجہ سے انسان کی کوششوں پر ثمرات حسنہ مترتب کرے اور انسان کی محنتوں کو ضائع ہونے سے بچاوے اور اس کی سعی اور جدوجہد کے بعد اس کے کام میں برکت ڈالے پس اس طور پر خدائے تعالیٰ کی دونوں صفتوں رحمانیت اور رحیمیت سے کلام الٰہی کے شروع کرنے کے وقت بلکہ ہریک ذیشان کام کے ابتدا میں تبرک اور استمداد چاہنا یہ نہایت اعلیٰ درجہ کی صداقت ہے جس سے انسان کو حقیقت توحید کی حاصل ہوتی ہے اور اپنے جہل اور بے خبری اور نادانی اور گمراہی اور عاجزی اور خواری پر یقین کامل ہوکر مبدء فیض کی عظمت اور جلال پر نظر جاٹھہرتی ہے اور اپنے تئیں بکلی مفلس اور مسکین اور ہیچ اور ناچیز سمجھ کر خداوند قادر مطلق سے اس کی رحمانیت اور رحیمیت کی برکتیں طلب کرتا ہے۔ اور اگرچہ خدائے تعالیٰ کیؔ یہ صفتیں خودبخود اپنے کام میں لگی ہوئی ہیں مگر اس حکیم مطلق نے قدیم سے انسان کے لئے یہ قانون قدرت مقرر کردیا ہے کہ اس کی دعا اور استمداد کو کامیابی میں بہت سا دخل ہے جو لوگ اپنی مہمات میں دلی صدق سے دعا مانگتے ہیں اور ان کی دعا پورے پورے اخلاص تک پہنچ جاتی ہے تو ضرور فیضان الٰہی ان کی مشکل کشائی کی طرف توجہ کرتا ہے۔ ہریک انسان جو اپنی کمزوریوں پر نگاہ کرتا ہے اور اپنے قصوروں کو دیکھتا ہے وہ کسی کام پر آزادی اور خودبینی سے ہاتھ نہیں ڈالتا بلکہ سچی عبودیت اس کو یہ سمجھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کہ جو متصرف مطلق ہے اس سے مدد طلب کرنی چاہئے یہ سچی عبودیت کا جوش ہریک ایسے دل میں پایا جاتا ہے کہ جو اپنی فطرتی سادگی پر قائم ہے اور اپنی کمزوری پر اطلاع رکھتا ہے۔
اور ہر حالت میں انتقام اور کینہ کشی پر مستعد رہتا ہے۔ نادان لوگ ہرمحل میں عفو اور درگزر کرنا پسند کرتے ہیں۔ یہ نہیں سوچتے کہ ہمیشہ درگزرؔ کرنے سے نظام عالم میں ابتری پیدا ہوتی ہے۔ اور یہ فعل خود مجرم کے حق میں بھی مُضرّہے کیونکہ اس سے اس کی