طاقتیں بے خبر بندوں پر ظاہر کرنا منظور تھا بعض ضروری قدرتوں کے دکھلانے
کرسکے اور ان کی تاریکی اور ظلمت کو اپنے کامل اور شافی بیان کےُ نور سے بکلی اٹھاسکے اور جس طور کا علاج حالت فاسدہ زمانہ کے لئے درکار ہے۔ وہ علاج اپنے ُ پرزور بیان سے کرسکے۔ لیکن جو مکالمات و مخاطبات اولیاء اللہ کے ساتھ ہوتے ہیں ان کے لئےؔ غالباً اس ضرورت عظمیٰ کا پیش آنا ضروری نہیں بلکہ بسا اوقات صرف اسی قدر ان مکالمات سے مطلب ہوتا ہے کہ تا ولی کے نفس کو کسی مصیبت اور محنت کے وقت صبر اور استقامت کے لباس سے متحلی کیا جائے یا کسی غم اور حزن کے غلبہ میں کوئی بشارت اس کو دی جائے مگر وہ کامل اور پاک کلام خدائے تعالیٰ کا کہ جو نبیوں اور رسولوں پر نازل ہوتا ہے وہ جیسا کہ ہم نے ابھی بیان کیا ہے اس ضرورت حقہ کے پیش آنے پر نزول فرماتا ہے کہ جب خلق اللہ کو اس کے نزول کی بشدّت حاجت ہو۔ غرض کلامِ الٰہی کے نازل ہونے کا اصل موجب ضرورت حقہ ہے۔ جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ جب تمام رات کا اندھیر ہوجاتا ہے اور کچھُ نور باقی نہیں رہتا۔ تو اسی وقت تم سمجھ جاتے ہو کہ اب ماہ َ نو کی آمد نزدیک ہے۔ اسی طرح جب گمراہی کی ظلمت سخت طور پر دنیا پر غالب آجاتی ہے تو عقلِ سلیم اس روحانی چاند کے نکلنے کو بہت نزدیک سمجھتی ہے ایسا ہی جب اِمساکِ بَاراں سے لوگوں کا حال تباہ ہوجاتا ہے تو اس وقت عقلمند لوگ باران رحمت کا نازل ہونا بہت قریب خیال کرتے ہیں اور جیسا کہ خدا نے اپنے جسمانی قانون میں بھی بعض مہینے برسات کے لئے مقرر کررکھے ہیں یعنی وہ مہینے جن میں فی الحقیقت مخلوق اللہ کو بارش کی ضرورت ہوتی ہے اور ان مہینوں میں جو مینہہ برستا ہے اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جاتا کہ خاص ان مہینوں میں لوگ زیادہ
نرمی اور کبھی درشتی کی جائے اور کبھی عفو اور کبھی سزا دی جائے اور اگر صرف نرمی ہی ہو یا صرف درشتی ہی ہو تو پھر نظام عالم کیَ کل ہی بگڑ جاتی ہے۔ پس اس سے