سے عاجز رہا۔ کیا قریب قیاس ہے کہ جس نےؔ چندیں ہزار مخلوقات کو بغیر مدد مادہ اور ہیولیٰ کے ایک حکم سے پیدا کردکھایا وہ بولیوں کی ایجاد پر قادر نہیں ہوسکتا نیکی کرتے ہیں اور دوسرے مہینوں میں فسق و فجور میں مبتلا رہتے ہیں۔ بلکہ یہ سمجھنا چاہئے کہ یہ وہ مہینے ہیں جن میں زمینداروں کو بارش کی ضرورت ہے اور جن میں بارش کا ہوجانا تمام سال کی سرسبزی کا موجب ہے ایسا ہی کلام الٰہی کا نزول فرمانا کسی شخص کی طہارت اور تقویٰ کے جہت سے نہیں ہے یعنی علّتِ موجبہ اُس کلام کے نزول کی یہ نہیں ہوسکتی کہ کوئی شخص غایت درجہ کا مقدس اور پاک باطن تھا یا راستی کا بھوکا اور پیاسا تھا بلکہ جیسا کہ ہم کئی دفعہ لکھ چکے ہیں۔ کتب آسمانی کے نزول کا اصلی موجب ضرورتِ حقّہ ہے یعنی وہ ظلمت اور تاریکی کہ جو دنیا پر طاری ہوکر ایک آسماؔ نی نور کو چاہتی ہے کہ تا وہ نور نازل ہوکر اس تاریکی کو دور کرے اور اسی کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے کہ جو خدائے تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں فرمایا ہے۔ 33۔ ۱؂ یہ لیلۃ القدر اگرچہ اپنے مشہور معنوں کے رو سے ایک بزرگ رات ہے لیکن قرآنی اشارات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی ظلمانی حالت بھی اپنی پوشیدہ خوبیوں میں لیلۃ القدر کا ہی حکم رکھتی ہے اور اس ظلمانی حالت کے دنوں میں صدق اور صبر اور زہد اور عبادت خدا کے نزدیک بڑا قدر رکھتا ہے اور وہی ظلمانی حالت تھی کہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت تک اپنے کمال کو پہنچ کر ایک عظیم الشانُ نور کے نزول کو چاہتی تھی اور اُسی ظُلمانی حالت کو دیکھ کر اور ظلمت زدہ بندوں پر رحم کرکے صفت رحمانیت نے جوش مارا اور آسمانی برکتیں زمین کی طرف متوجہ ہوئیں۔ سو وہ ظلمانی حالت دنیا کے لئے مبارک ہوگئی اور دنیا نے اس سے ثابت ہے کہ ہمیشہ اور ہر محل میں عفو کرنا حقیقی نیکی نہیں ہے بلکہ ایسی تعلیمؔ کو کامل تعلیم سمجھنا ایک غلطی ہے جو ان لوگوں کو لگی ہوئی ہے جن کی نگاہیں انسان کی فطرت کے پورے گہراؤ تک نہیں پہنچتیں اور جن کی نظر ان تمام قُوّتوں کے دیکھنے سے بند رہتی