تعریف ٹھہرسکتی ہے۔ کیا کوئی ایماندار اس کامل اور قادر مطلق کی نسبت ایسی بدظنی کرسکتا ہےؔ کہ وہ اپنی قدرت نمائی کے پہلے زمانہ میں ہے جبکہ خدائی کی
اور زہد اور عبادت میں زندگی بسر کرنے والے اب تک ہزاروں لوگ گزرے ہیں لیکن خدا کا پاک اور کامل کلام کہ جو اُس کے فرائض اور احکام کو دنیا میں لایا اور اس کے ارادوں سے خلق اللہ کو مطلع کیا۔ اُنہیں خاص وقتوں میں نازل ہوا ہے کہ جب اس کے نازل ہونے کی ضرورت تھی۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ خدا کا پاک کلام انہیں لوگوں پر نازل ہو کہ جو تقدّس اور پاک باطنی میں اعلیٰ درجہ رکھتے ہوں۔ کیونکہ پاک کو پلید سے کچھ میل اور مناسبت نہیں لیکن یہ ہرگز ضرور نہیں کہ ہر جگہ تقدس اور پاک باطنی کلام الٰہی کے نازل ہونے کو مستلزم ہو بلکہ خدائے تعالیٰ کی حقانیِ شریعت اور تعلیم کا نازل ہونا ضروراتِ حقہ سے وابستہ ہے۔ پس جس جگہ ضروراتِ حقہ پیدا ہوگئیں اور زمانہ کی اصلاح کے لئے واجب معلوم ہوا کہ کلام الٰہی نازل ہو اسی زمانہ میں خدائے تعالیٰ نے جو حکیم مطلق ہے اپنے کلام کو نازل کیا اور کسی دوسرے زمانہ میں گو لاکھوں آدمی تقویٰ اور طہارت کی صفت سےُ متصف ہوں اور گو کیسی ہی تقدس اور پاک باطنی رکھتے ہوں ان پر خدا کا وہ کامل کلام ہرگز نازل نہیں ہوتا کہ جو شریعت حقانی پر مشتمل ہو۔ ہاں مکالمات و مخاطبات حضرت احدیت کے بعض پاک باطنوں سے ہوجاتے ہیں اور وہ بھی اس وقت کہ جب حکمت الٰہیہ کے نزدیک ان مکالمات اور مخاطبات کے لئے کوئی ضرورتِ حقہ پیدا ہو۔ اور ان دونوں طور کی ضرورتوں میں فرق یہ ہے کہ شریعت حقانی کا نازل ہونا اس ضرورت کے وقت پیش آتا ہے کہ جب دنیا کے لوگ بباعث ضلالت اور گمراہی کے جادۂ استقامت سے منحرف ہوگئے ہوں اور اُن کے راہِ راست پر لانے کے لئے ایک نئی شریعت کی حاجت ہو کہ جو ان کی آفات موجودہ کا بخوبی تدارک
بہ بداہت عقل ثابت ہے کہ ہمیشہ اور ہرجگہ یہی خلق خلق اچھا نہیں ہوسکتا۔ کہ شریر کی شرارت سے درگزر کی جائے بلکہ خود قانونِ فطرت ہی اس خیال کا ناقص ہوناؔ ظاہر کرتا ہے۔ کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ مدبر حقیقی نے انتظام عالم اسی میں رکھا ہے جو کبھی