بغیر مدد اسباب اور معماروں اور مزدوروں کے محض ارادہ سے بہ مجرد حکم کے انجام ہوشیار رہو اور کسی دھوکا دہندہ کے دھوکا میں مت آؤ۔ اپنے دلوں سے آپ ہی پوچھ لو کہ تمہارے دل کس قدر یقینؔ کے خواہش مند ہیں۔ کیا فقط تمہارے اپنے ہی افسردہ خیال تمہارے دلوں کو پوری پوری تسلی دے سکتے ہیں۔ کیا تمہارے روح اس بات کے خواہاں نہیں ہیں کہ تم اس دنیا میں کامل یقین تک پہنچ جاؤ اور نابینائی سے خلاصی پاؤ۔ تم سچ سچ کہو کیا تمہیں اس بات کی طلب نہیں کہ تمہاری ظلمت اور حیرت دور ہو۔ اور وہ شبہات جو تمہارے دلوں میں مخفی ہیں جن کو تم ظاہر بھی نہیں کرسکتے‘ دور ہوجائیں۔ پس اگر الٰہی معرفت کا کچھ جوش ہے تو یقیناً سمجھو کہ اس دنیا میں خدا کا قانون قدرت یہی ہے کہ اس نے ہریک چیز کے دریافت کرنے کے لئے یا حاصل کرنے کے لئے کسی نہ کسی چیز کو آلہ ٹھہرا دیا ہے۔ اور عقل کا صرف یہی کام ہے کہ اس آلہ کی ضرورت کو ثابت کرتی ہے۔ لیکن آپ اس آلہ کا کام نہیں دے سکتی۔ مثلاً آٹا پیسنے کے لئے چکی کی ضرورت کو عقل ثابت کرتی ہے۔ مگر یہ بات نہیں کہ عقل آپ ہی چکی بن جاوے اور آٹا پیسنے لگے۔ اسی طرح آج تک صدہا آلات کی عقل نے رہبری کی ہے لیکن کام وہی انجام کو پہنچا ہے جس کو آلہ نے انجام دیا ہے۔ اور جس کام کا آلہ میسر نہیں آیا۔ وہاں عقل حیران رہی ہے۔ پس دنیا کے تمام کاروبار پر نظر ڈال کر دیکھ لو کہ غایت درجہ کی سعی عقل کی یہی ہے کہ اس کو کسی کام کے انجام دینے کے لئے کسی آلہ کا خیال دل میں پیدا ہوجائے۔ مثلاً عقل نے یہ سوچا کہ عبور دریا کے لئے کوئی آلہ چاہئے تو کشتی کی صورت دل میں جم گئی اور پھر کشتی بنانے کا ایک مادہ میسّر آ گیا جو دریا پر چلتا ہے اور ڈوبتا نہیں، سو اس مادہ کے میسر آنے سے کشتی بن گئی۔ علیٰ ہذا القیاس ہزارہا اَور آلات ہیں جن سے دنیا کا دھندا چلتا ہے اور ہرجگہ عقل کا صرف اتنا منصب ہے کہ وہ آلہ کی ضرورت کو ثابت کرتی ہے اور یہ بیان کردیتی ہے کہ اس قسم کا آلہ ہونا چاہئے۔ یہ نہیں کہ وہ آپ آلہ مطلوبہ کا کام دے سکتی ہے۔ اب سمجھنا چاہئے کہ عقل سلیم اس بات کو بہ بداہت سمجھتی ہے کہ